Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

اگست 2003 میں گجرات میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد، نریندر مودی (اس وقت کے وزیراعلیٰ) نے برطانیہ کا دورہ کیا تاکہ تارکین وطن بھارتیوں کا شکریہ ادا کیا جا سکے۔ انہوں نے ویملے کانفرنس سینٹر میں ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "آپ سب گجرات کے سچے دوست ہیں، اور میں دوستی کا قرض چکانے آیا ہوں

یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد برطانیہ کے لیے یہ دوسرا سب سے بڑا دو طرفہ تجارتی معاہدہ ہوگا۔ ایف ٹی اے دونوں ملکوں کی صنعتوں کے لیے مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنائے گا اور اس کے نتیجے میں یوزرکے لیے اشیاء اور خدمات کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔

"برطانیہ میں بھارتی کمیونٹی کی جانب سے ملنے والے پرجوش استقبال سے میں بہت متاثر ہوں۔ بھارت کی ترقی کے لیے ان کا پیار اور جذبہ واقعی حوصلہ افزا ہے۔"

جے رام رمیش نے دہلی کے ایک تھنک ٹینک گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو (GTRI) کے حوالے سے بتایا کہ یہ ایف ٹی اے برطانوی کمپنیوں کو ہندوستانی سرکاری خریداری میں داخلے کی اجازت دے گا، جو تقریباً 600 بلین ڈالر کا بازار ہے۔

پارلیمنٹ کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) نے آپریشن سندور پر بحث کے لیے بالترتیب دونوں ایوانوں کو 16 گھنٹے اور 9 گھنٹے کا وقت دیا ہے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ وہ ’’بے مثال بہادری اور حوصلے کا مظہر تھے‘‘ اور ان کا کردار آزادی کی جدوجہد میں ناقابلِ فراموش ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ ایک ایسے سرکردہ رہنما تھے جنھوں نے ہندوستان کی تحریک آزادی میں نہایت اہم کردار ادا کیا اور وہ ہمیشہ دوسروں کی خدمت پر یقین رکھتے تھے۔

خارجہ سکریٹری نے کہا کہ مالدیپ ہمارے پڑوس میں ہے اور ایک بہت ہی قریبی پارٹنر ہے۔ یہ ہندوستان کی ’پڑوسی اولین‘ پالیسی کا ایک اہم حصہ ہے اور اوشین ویژن کا بھی حصہ ہے، جو سلامتی اور ترقی کے لیے علاقائی تعاون کو فروغ دیتا ہے۔ بحران کے وقت، چاہے قدرتی ہو یا انسان ساختہ، ہم نے ہمیشہ مالدیپ کی ضروریات کا فوری جواب دیا ہے۔ ہم نے باقاعدگی سے سیاسی دوروں کے ذریعے سے مزیز مضبوط ہو رہے ہیں۔

فی الحال دھنکھڑ کے استعفیٰ پر سیاست تیز ہو رہی ہے۔ اپوزیشن ارکان ان کے استعفے پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھا کے چیئرمین کا اچانک استعفیٰ اتنا ہی چونکا دینے والا ہے جتنا کہ یہ ناقابل تصور ہے۔

سدرشن وینو کے خیالات کو ’مودی اسٹوری‘ کے ذریعے شیئر کیا گیا ہے۔ اس میں انہوں نے کَچھ فیسٹیول اور وزیر اعظم نریندر مودی کی تحریک سے متعلق ایک دلچسپ واقعہ سنایا ہے۔