سپریم کورٹ نے کانگریس لیڈر ششی تھرور کی درخواست پر سماعت ملتوی کر دی ہے، جس میں انہوں نے بی جے پی لیڈر راجیو ببر کی طرف سے دائر مجرمانہ ہتک عزت کے مقدمے کو منسوخ کرنے کی مانگ کی تھی۔ یہ کیس تھرور کے اس بیان سے متعلق ہے جس میں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کا موازنہ ‘شیولنگ کے گرد لپٹے بچھو’ سے کیا تھا۔ بار اینڈ بینچ کی رپورٹ کے مطابق عدالت عظمیٰ نے کیس بند کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے تبصرہ کیا کہ عوامی زندگی میں لوگوں کو ایسے بیانات پر حساس ہونے کی ضرورت نہیں۔ سماعت کے دوران جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے کہا کہ ان سب چیزوں کو لے کر اتنے جذباتی کیوں ہو؟ آئیے ہم سب ان چیزوں کو روکیں۔ ایک طرح سے ایڈمنسٹریٹر اور جج ایک ہی گروپ میں آتے ہیں۔ ان کی جلد موٹی ہوتی ہے، ایسی چیزوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
بنچ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ عوامی زندگی کے لوگ اس طرح کے بیانات پر اتنا اعتراض کیوں کرتے ہیں؟ عدالت نے معاملے کومعمولی ایشو قرار دیتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔ آپ کو بتا دیں، 9 اگست کو دہلی ہائی کورٹ نے تھرور کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا، جس میں انہوں نے ہتک عزت کے مقدمے کو منسوخ کرنے کی مانگ کی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ موجودہ وزیر اعظم کے خلاف الزامات قابل نفرت اور قابل مذمت ہیں اور اس سے پارٹی، اس کے اراکین اور اس کے عہدیداروں کی شبیہ متاثر ہوتی ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ پی ایم مودی، بی جے پی اور آر ایس ایس کو بدنام کرنے کے مترادف ہے۔
تھرور نے کہا کہ یہ ان کا اصل بیان نہیں ہے اور وہ صرف ایک دوسرے شخص گوردھن جھادپیا کا حوالہ دے رہے ہیں اور یہ بیان پچھلے کئی سالوں سے عام ہے۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد تھرور نے وکیل ابھیشیک جیبراج کے ذریعے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔یہ تنازع اکتوبر 2018 میں بنگلورو لٹریچر فیسٹیول میں ششی تھرور کے ایک بیان سے شروع ہوا، جہاں انہوں نے اپنی کتاب ‘دی پیراڈوکسیکل پرائم منسٹر: نریندر مودی اینڈ ہز انڈیا’ پر گفتگو کرتے ہوئے آر ایس ایس کے ایک لیڈر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مودی شیو لنگ کے گرد لپٹے ہوئے بچھو کی طرح ہیں، نہ آپ اسے اپنے ہاتھ سے ہٹا سکتے ہیں، نہ ہی اسے اپنے ہاتھ سے مار سکتے ہیں۔ بی جے پی لیڈر راجیو ببر نے اس بیان کو قابل اعتراض اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے نومبر 2018 میں دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں تھرور کے خلاف مجرمانہ ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

