Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

وزیرِاعظم مودی نے یوکرین تنازع کے پرامن حل کی ضرورت پر ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ عالمی و علاقائی اقدامات کی بھارت حمایت کرتا ہے اور جنگ کے فوری خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

ذرائع کے مطابق صدر پوتن نے وزیرِ اعظم مودی کا انتظار بھی کیا تاکہ وہ ان کے ہمراہ SCO کانفرنس کے مقام سے دو طرفہ ملاقات کے ہوٹل تک جائیں، جو کانفرنس ہال سے کچھ فاصلے پر واقع تھا۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ چین کے تیانجن میں منعقدہ SCO سمٹ میں رکن ممالک نے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے جاں بحق اور زخمی افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے حملوں کے ذمہ داروں، منصوبہ سازوں اور سرپرستوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے’’ووٹرادھیکاریاترا‘‘ کی اختتامی ریلی میں بڑا انکشاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے مہادیوپورہ میں’ووٹ چوری‘ کی حقیقت کوبے نقاب کیا تو ہم نے ایٹم بم گرایا، لیکن اب ہائیڈروجن بم آنے والا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہائیڈروجن بم کے بعد مودی جی اس ملک کو منہ نہیں دکھا سکیں گے۔

ایس سی او اجلاس میں یہ واضح پیغام دیا گیا کہ دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف تمام رکن ممالک متحد ہیں۔ اجلاس کے دوران رکن ممالک نے دوہرے معیار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک یا گروہ کی طرف سے دہشت گردی کو ذاتی یا سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

چین کے شہر تیانجن میں دنیا کی 11 بڑی طاقتوں کا ایک بڑا اجتماع ہوا۔ اس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ وائرل ویڈیو میں پی ایم مودی، صدر شی جن پنگ اور صدر پوتن ایک دوسرے کے قریب کھڑے نظر آ رہے ہیں۔

پی ایم نریندر مودی نے مزید کہا کہ یہ حملہ صرف بھارت کی روح پر نہیں ہوا تھا، بلکہ ہر اُس ملک اور شخص کے لیے ایک چیلنج تھا جو انسانیت پر یقین رکھتا ہے۔

آج پیر کے روز ایک بار پھر SCO کے رہنماؤں کا اجتماع ہوگا۔ دو دنوں پر محیط اس اجلاس کا آج آخری دن بھی ہے۔ پی ایم مودی بھی اس اجلاس میں شریک ہوں گے، جس کے بعد وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کریں گے۔

اس سے قبل وزیر اعظم مودی نے چینی صدر شی جن پنگ سے بھی ملاقات کی۔ یہ ملاقات 2024 کے قازان میں ہونے والے BRICS اجلاس کے بعد ان دونوں رہنماؤں کی پہلی ملاقات تھی۔

وزیر اعظم مودی نے خط میں کہا کہ پجارا نے نہ صرف ہندوستانی ٹیم بلکہ ڈومیسٹک کرکٹ بالخصوص سوراشٹرا میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے لکھا کہ راجکوٹ کو کرکٹ کے نقشے پر قائم کرنے میں پجارا کا کردار آنے والی نسلوں کو فخر محسوس کرائے گا۔