شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارتی پی ایم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان تیانجن میں ایک اہم دو طرفہ ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے سیکورٹی، تجارت، توانائی اور باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا۔
پی ایم نریندر مودی کا بیان<
Visuals from the SCO Summit in Tianjin, China.
PM Modi interacted with Russian President Putin and Chinese President Xi. pic.twitter.com/L8kyEkDKxk
— BJP (@BJP4India) September 1, 2025
/h3>
پی ایم مودی نے روسی صدر سے ملاقات کے دوران کہا:”دسمبر میں آپ کے بھارت کے دورے کا شدت سے انتظار کیا جا رہا ہے۔ بھارتی عوام آپ کے استقبال کے منتظر ہیں۔ بھارت ہمیشہ امن کا حامی رہا ہے اور مشکل حالات میں بھی روس کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔”
مودی کا یہ بیان نہ صرف روس کے ساتھ گہرے سفارتی تعلقات کا عکاس ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ بھارت عالمی سطح پر توازن قائم رکھتے ہوئے، بااعتماد شراکت دار بننے کی پالیسی پر کاربند ہے۔
چین کے شہر تیانجن میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس میں 22 اپریل کو بھارت کے علاقے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اجلاس میں شامل تمام رکن ممالک نے حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے حملوں کے منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔
پہلگام حملے کی متفقہ مذمت
ایس سی او اجلاس میں یہ واضح پیغام دیا گیا کہ دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف تمام رکن ممالک متحد ہیں۔ اجلاس کے دوران رکن ممالک نے دوہرے معیار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک یا گروہ کی طرف سے دہشت گردی کو ذاتی یا سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خودمختار ریاستوں اور ان کے اداروں کا کردار کلیدی ہے، اور عالمی برادری کو مل کر ان خطرات کا مقابلہ کرنا ہوگا، جس میں سرحد پار دہشت گردی بھی شامل ہے۔
شہباز شریف کی عالمی سطح پر سبکی
Watch: Pakistan PM Shahbaz Sharif looks on as PM Modi, Russian President Putin walks past him at the SCO summit pic.twitter.com/aqIMQBuI6v
— Sidhant Sibal (@sidhant) September 1, 2025
اس اجلاس میں جب دہشت گردی کی مذمت کی جا رہی تھی، تو پاکستانی پی ایم شہباز شریف ایک مشکل صورتِ حال سے دوچار نظر آئے۔ پاکستان پر عرصے سے دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دینے کے الزامات لگتے رہے ہیں، اور اجلاس میں جب سرحد پار دہشت گردی کا ذکر آیا تو پاکستان کی پالیسیوں پر غیر اعلانیہ تنقید محسوس کی گئی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران کئی رہنماؤں نے بلاواسطہ پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرنے والوں کو عالمی برادری میں تنہا کر دینا چاہیے۔“ اس موقع پر شہباز شریف کا چہرہ اتر گیا اور وہ بظاہر وضاحت دینے کی کوشش کرتے نظر آئے، مگر کوئی رکن ملک ان کے دفاع میں نہیں آیا۔
بھارت کی سفارتی کامیابی
ایس سی او اجلاس میں بھارت کی کئی پیش رفتوں کو سراہا گیا۔
سربراہی اجلاس کے اعلامیے میں بھارت کے دیے گئے نعرے “ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل” کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا۔
3 تا 5 اپریل 2025 کو نئی دہلی میں منعقد ہونے والے پانچویں ایس سی او اسٹارٹ اپ فورم کے نتائج کا خیرمقدم کیا گیا، جس سے سائنس و ٹیکنالوجی اور اختراعات کے شعبوں میں تعاون کو تقویت ملی۔
20واں ایس سی او تھنک ٹینک فورم، جو 21 تا 22 مئی 2025 کو نئی دہلی میں ہوا، اس کے کامیاب انعقاد کو بھی سراہا گیا۔
اس کے علاوہ، انڈین کونسل آف ورلڈ افیئرز (ICWA) میں قائم SCO اسٹڈی سینٹر کے ذریعے ثقافتی اور انسانی تبادلے کو مضبوط کرنے کی کوششوں کو بھی سراہا گیا۔
ایس سی او کا یہ اجلاس نہ صرف دہشت گردی کے خلاف اجتماعی عزم کا مظہر تھا بلکہ اس میں بھارت کی بڑھتی ہوئی علاقائی اور عالمی اہمیت کو بھی تسلیم کیا گیا۔ اس کے برعکس، پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کے معاملے پر عالمی دباؤ کا شکار نظر آیا اور پی ایم شہباز شریف کو عالمی سطح پر خفت اٹھانی پڑی۔
یہ اجلاس اس بات کا ثبوت تھا کہ عالمی برادری اب دہشت گردی پر مصلحت سے کام لینے کے لیے تیار نہیں، اور جو ممالک اس مسئلے پر دوغلا رویہ اپنائیں گے، وہ تنہائی کا شکار ہوں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
