Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

ریاستی بی جے پی صدر بی وائی وجیندر نے ہفتے کو بتایا کہ ’سیوا سنکلپ ابھیان‘ 17 ستمبر سے شروع ہو کر 17 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ بنگلورو واقع بی جے پی کے ریاستی دفتر ’جگن ناتھ بھون‘ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وجیندر نے کہا کہ پارٹی کے قومی صدر نتن نوین کی درخواست پر اس مہم کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد وزیر اعظم نریندر مودی کی طویل عوامی زندگی اور مرکزی حکومت کی مختلف فلاحی اسکیموں کو لوگوں تک پہنچانا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان ہفتہ کی شام ہونے والی دو طرفہ ملاقات میں تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق اہم امور پر بات چیت ہونے کی توقع ہے۔ اس دوران چین کے ساتھ ہندوستان کے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے پر خصوصی توجہ دی جا سکتی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ برکس نے اپنے قیام کے 20 برس مکمل کر لیے ہیں اور اب یہ تنظیم ’پختگی کے دور‘ میں داخل ہو چکی ہے۔ ایسے میں اگلی دو دہائیوں کے لیے ایک نیا اور پرعزم ایجنڈا تیار کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

نئی دہلی میں جاری برکس سربراہ اجلاس پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔ دارالحکومت میں غیر ملکی لیڈروں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی متعدد اہم دو طرفہ ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔

برکس کے اندر روس-یوکرین جنگ، مغربی ایشیا کا تنازع اور عالمی سلامتی جیسے کئی اہم مسائل ہیں، جن پر تمام رکن ممالک کی سوچ یکساں نہیں ہے۔ مذاکرات کے دوران ان امور پر اختلافات بھی سامنے آئے۔ہندوستان نے صدر ملک کی حیثیت سے مختلف فریقوں کے درمیان بات چیت جاری رکھی اور مشترکہ اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی۔

سورو داس نے اپنی پوسٹ کے ساتھ اکاؤنٹ کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا ہے، جس میں کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کے حوالے سے کارروائی دکھائی گئی ہے۔ اس میں لکھا ہے، ’’آپ کا مواد بلاک کر دیا گیا ہے۔‘‘ سورو داس کے مطابق 10 ستمبر کو انسٹاگرام پر پوسٹ کیے گئے ان کے مواد کو بلاک کیا گیا ہے۔

شی جن پنگ کے دورۂ بھارت کا سب سے اہم مرحلہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کی دو طرفہ ملاقات ہے، جو آج شام متوقع ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے پیش نظر مودی اور شی کی یہ ملاقات انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ ایشیا کی دو بڑی طاقتوں کے لیڈران کے درمیان ہونے والی بات چیت پر نہ صرف بھارت اور چین بلکہ پوری دنیا کی نظریں ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات کا اثر عالمی سیاست اور معیشت پر بھی پڑتا ہے۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا یہ ہندوستان کا پہلا دورہ ہے۔ ان کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور امریکہ کے کردار کو لے کر مغربی ایشیا کی صورتحال انتہائی حساس بنی ہوئی ہے۔برکس سربراہی اجلاس نے ہندوستان اور ایران کی اعلیٰ قیادت کو آمنے سامنے بات چیت کا ایک اہم موقع فراہم کیا۔

ہندوستان اور ایتھوپیا کے درمیان تعلقات تاریخی طور پر مضبوط رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ترقیاتی شراکت داری اور صلاحیت سازی کے شعبے میں تعاون اہم حیثیت رکھتا ہے۔ ایتھوپیا نے ہندوستان کے ترقیاتی اقدامات اور عالمی جنوب سے متعلق امور پر ہندوستان کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی اس سے قبل بھی برکس پلیٹ فارم سے الگ ایتھوپیا کے وزیر اعظم کے ساتھ دوطرفہ ملاقات کر چکے ہیں۔

شی جن پنگ کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہندوستان اور چین 2020 کی گلوان کی خونریز جھڑپوں کے بعد دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہندوستان مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی مسلسل ترقی اور پیش رفت کے لیے سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام برقرار رکھنا ایک اہم شرط ہے۔