Urdu Conclave 2026

PM Modi

ہندوستان یو پی آئی کے 10 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہا ہے۔ اس دوران یو پی آئی گھریلو ادائیگی کے نظام سے آگے بڑھ کر عالمی سطح پر بھی ہندوستان کے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کی شناخت بن چکا ہے۔ اس وقت یو پی آئی 11 ممالک میں کام کر رہا ہے۔

شنکر چودھری نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہمیشہ کسانوں اور مویشی پالنے والوں کے مفادات کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر دودھ کی درآمد کے معاملے پر حکومت کے موقف کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق، عالمی سطح پر دباؤ کے باوجود دودھ کی درآمد پر پابندی برقرار رکھ کر ملک کے مویشی پالنے والوں کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے سنسکرت سبھاشِت شیئر کرنے کا یہ سلسلہ ہندوستانی ثقافت کے مالامال ورثے کو عوام تک پہنچانے کی مسلسل کوشش کا حصہ ہے۔ اس سے ایک روز قبل پیر کو بھی پی ایم مودی نے ایک شلوک شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ دوسروں کے تئیں ہمدردی رکھنے سے خود اعتمادی اور اطمینان کے ذریعے حقیقی خوشی حاصل ہوتی ہے، جس سے معاشرے میں تعاون اور بھائی چارے کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ ایک دہائی قبل یو پی آئی کا آغاز ہندوستان کے ڈیجیٹل ادائیگی کے سفر میں اب تک کا سب سے فیصلہ کن قدم ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے یو پی آئی کے وسیع پیمانے اور ملک بھر میں اس کی رسائی پر فخر کا اظہار کرنے کی اپیل کرتے ہوئے لوگوں سے کہا کہ وہ یو پی آئی کے ساتھ اپنے تجربات بھی شیئر کریں اور بتائیں کہ اس کے آنے سے ان کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی ہے۔

پروگرام کا بنیادی مقصد ابھرتے ہوئے نوجوانوں سے وزیر اعظم کی براہ راست بات چیت کرانا ہے، ساتھ ہی 2036 اولمپکس کے لیے باصلاحیت کھلاڑیوں کی شناخت اور ان کی تیاری کے سلسلے میں ایک جامع روڈمیپ تیار کرنا بھی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ہمدری، اطمینان، محنت اور پختہ عزم کو زندگی میں کامیابی کی بنیاد قرار دیا، وزیر اعظم کی جانب سے شیئر کیا جانے والا یہ پہلا سبھاشیت نہیں ہے۔ وہ مسلسل ہندوستانی فلسفے اور علمی روایت کے ان قیمتی پیغامات کو عوام کے سامنے پیش کرتے رہے ہیں۔

سنجے راوت نے ’ون نیشن، ون الیکشن‘ کے معاملے پر بھی این ڈی اے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اس تجویز پر چاہے جتنی میٹنگز، بحث یا غور و فکر کرلیا جائے، 2029 میں موجودہ حکمران اتحاد کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے امکانات نہیں ہیں۔ ان کے اس دعوے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے خلائی شعبے کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے 20 اسپیس اسٹارٹ اپس کے سی ای اوز اور بانیوں سے ملاقات کی۔ 21 اگست کو نئی دہلی میں ہوئی اس ملاقات میں نجی خلائی شعبے کی تیزی سے بڑھتی سرگرمیوں، نئی ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور بھارت کو عالمی خلائی صلاحیتوں کے مرکز کے طور پر تیار کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ 

وزیراعظم نریندر مودی نے ملک کے 20 اسپیس اسٹارٹ اپس کے CEOs اور فاؤنڈرز سے بات چیت کی۔ اس دوران انہوں نے نوجوان کاروباری افراد کی ہمت اور حکومت پر ان کے اعتماد کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔

ملک میں’ایک ملک، ایک انتخاب‘ کو2034کے بجائے2029میں ہی نافذ کرنے کی تیاریاں تیز ہوگئی ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی موسم سرما کے اجلاس میں اپنی رپورٹ پیش کر سکتی ہے۔ جانیے مودی حکومت کا ماسٹر پلان کیا ہے۔