Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

سادھوی نرنجن جیوتی نے کہا کہ 2023 میں نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ پیش کیا گیا تھا، جس کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے نشستیں محفوظ کی جائیں گی۔

وزیر اعظم نے سماجی انصاف کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کی جانب گامزن ہے جہاں مساوات اور انصاف محض نعرے نہیں بلکہ عملی حقیقت ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے جاری انتظار اب ختم ہونے کو ہے اور ریاستی اسمبلیوں سے لے کر پارلیمنٹ تک خواتین کی نمائندگی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

وزیر اعظم مودی  نے مالی شمولیت کی اسکیموں کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مدرا یوجنا نے زمینی سطح پر خواتین کو بااختیار بنایا ہے اور انہیں آسانی سے قرض فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 60 فیصد سے زیادہ خواتین مستفیدین ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت کے کاروباری شعبے میں بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔

اس مہم کا مقصد خواتین کے حقوق اور ان کی نمائندگی کو مضبوط بنانے کے لیے حال ہی میں پیش کیے گئے ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ کے تئیں عوامی حمایت کا اظہار کرنا اور اس کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ پروگرام کے منتظمین کے مطابق یہ صرف ایک تقریب نہیں بلکہ ایک سماجی تحریک ہے، جس کے ذریعے خواتین کے مقام کو مزید مستحکم کرنے کا پیغام دیا جائے گا۔

ہنگری میں حالیہ انتخابات کو ایک تاریخی موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ٹیزا پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کرتے ہوئے 16 سال سے برسرِ اقتدار فیدیز پارٹی کو شکست دے دی۔ رپورٹس کے مطابق تقریباً 97 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد ٹیزا پارٹی نے 199 رکنی پارلیمنٹ میں 138 نشستیں حاصل کیں، جو کل ووٹوں کا تقریباً 53.6 فیصد بنتا ہے۔

نئی دہلی کے وگیان بھون میں منعقدہ ’’ناری شکتی وندن سمیلن‘‘ سے وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے نفاذ کے لیے 2029 تک کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اس حوالے سے وسیع اتفاق رائے موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ یہ قدم سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر اجتماعی تعاون سے مکمل کیا جائے، تاکہ ملک کی خواتین کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا جا سکے۔

جے ڈی یو کے وزیر زماں خان کا کہنا ہے کہ تمام تیاریاں تقریباً مکمل ہوچکی ہیں۔ منگل کے روزکابینہ کی میٹنگ ہوگی۔ جو کچھ بھی ہوگا، نتیش کمار کے فیصلے پرہوگا۔ انہوں نے حلف برداری کی تاریخ سے متعلق بھی بڑی بات کہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ تک خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی نہ صرف جمہوری اقدار کو مضبوط کرے گی بلکہ سماجی اور اقتصادی ترقی کو بھی نئی سمت دے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی، تاکہ وہ ملک کی ترقی میں فعال کردار ادا کر سکیں۔

ستمبر 2023 میں پارلیمنٹ نے ناری شکتی وندن ادھینیم منظور کیا تھا، جس کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستیں محفوظ کی گئی ہیں۔ اس قانون کے مؤثر نفاذ کے پیش نظر اسی ماہ کی 16 تاریخ سے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے، جس میں خواتین کے ریزرویشن سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔

ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ اقلیتی طبقہ اپوزیشن کے لیے محض ووٹ بینک کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے لیے وہ ملک کے برابر کے شہری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی طرح کی خوشامد یا تفرقہ بازی پر یقین نہیں رکھتی بلکہ سب کے ساتھ انصاف اور مساوات کے اصول پر عمل پیرا ہے، جو ملک کو مضبوط بنانے کا واحد راستہ ہے۔