INDIA Alliance Protest: ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج، پٹنہ میں تیجسوی کا مارچ، لکھنؤ اور بنگلورو میں بھی مظاہرے
بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر کر الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کیا۔ احتجاجی مارچ کی قیادت راشٹریہ جنتا دل کے کارگزار صدر اور اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو نے کی۔ ان کے ساتھ رکن پارلیمنٹ میسا بھارتی سمیت ’اتحاد‘ کے کئی سینئر لیڈر اور کارکن موجود تھے۔ مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔
Chetan Sharma Cricket Stadium: چیتن شرما کرکٹ اسٹیڈیم میں دو روزہ ٹرائل کیمپ، 450 کھلاڑی شارٹ لسٹ، 120 کا ہوگا حتمی انتخاب
حتمی طور پر منتخب کیے جانے والے کھلاڑیوں کے درمیان 17 سے 19 اکتوبر تک پریکٹس اور مسابقتی میچ منعقد کیے جائیں گے۔ ان مقابلوں میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کی بنیاد پر انہیں STCL کی 8 ٹیموں میں شامل کیا جائے گا۔اس کے بعد STCL سیزن-1 کا انعقاد 21 سے 28 اکتوبر 2026 تک راجستھان کے ناتھ دوارہ واقع ڈاکٹر مدن پالیوال میراج اسٹیڈیم میں کیا جائے گا۔ لیگ کے دوران نوجوان کھلاڑیوں کو تجربہ کار کرکٹرز سے سیکھنے کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا بھی موقع ملے گا۔
Ganga Water is Rising Rapidly: بہار میں گنگا کا پانی سیلابی سطح سے تجاوز کرنے کا خدشہ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ محکمہ نے جاری کیا الرٹ
پانی کی سطح بڑھنے یا سیلاب کی صورتحال پیدا ہونے پر انتظامیہ اور امدادی ٹیموں کی ہدایات پر فوری عمل کرنے کو کہا گیا ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ محکمہ نے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹر سے رابطہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
Rising Water Levels of Ganges: بہار میں گنگا سمیت کئی ندیوں کی بڑھتی آبی سطح سے تشویش، بھاگلپور میں پشتے کی حفاظت کا کام جنگی پیمانے پر جاری
انتظامیہ نے خاص طور پر بچوں اور خواتین سے اپیل کی ہے کہ وہ ندی کے پانی کے قریب نہ جائیں اور نہانے یا کھیلنے سے گریز کریں۔ میونسپل کارپوریشن کو پانی جمع ہونے والے علاقوں میں پمپ کا انتظام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
Student Riot in Patna:پٹنہ میں طلبہ کا ہنگامہ،15نکاتی مطالبات کو لے کر وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کے گھیراؤکی کوشش،مارچ کر رہے طلبہ کوپولیس نے حراست میں لیا
بیریکیڈنگ توڑی، پولیس سے جھڑپ،70ویں BPSC امتحان منسوخ کرنے سمیت کئی مطالبات پر طلبہ کا احتجاج، پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا، مظاہرین کا الزام ہے کہ امتحان میں مبینہ طور پر پیپر لیک اور دیگر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔
Patna Road Accident: پٹنہ میں نوجوان کی موت کے بعد ہنگامہ، 10 گاڑیوں کو لگائی آگ، ٹریفک پولیس چوکی نذرِ آتش، ہائی وے جام
مشتعل ہجوم نے پولیس کی گاڑیوں، بسوں اور موٹر سائیکلوں سمیت تقریباً 10 گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ سڑک کے کنارے کھڑی 3 سے 4 موٹر سائیکلوں کو بھی نذرِ آتش کیے جانے کی اطلاع ہے۔ اس کے علاوہ مظاہرین نے ٹریفک پولیس کی ایک چوکی کو بھی آگ لگا دی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔واقعے کے بعد پولیس اور انتظامیہ نے فوری طور پر علاقے میں سکیورٹی بڑھا دی۔
Clash between Congress and BJP workers in Patna: پٹنہ میں بی جے پی اور کانگریس کارکنوں کے درمیان شدید تصادم، لاٹھی ڈنڈے اور پتھراؤ، متعدد افراد زخمی
عینی شاہدین کے مطابق تصادم کے دوران دونوں جانب سے لاٹھی ڈنڈوں اور پتھروں کا استعمال کیا گیا۔ کئی کارکن ہاتھوں میں ڈنڈے لیے ہوئے تھے اور ایک دوسرے پر حملہ آور ہوگئے۔ جھڑپ کے دوران متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا اور ان کے شیشے توڑ دیے گئے۔
Three children drown in the Ganges: پٹنہ میں نہانے کے دوران گنگا میں ڈوبنے سے تین بچوں کی موت، گاؤں میں مچا کہرام
واقعے کی اطلاع ملتے ہی شاہ پور تھانے کی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور قانونی کارروائی مکمل کی۔ اس کے بعد پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں اہل خانہ کے حوالے کر دی گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ محکمہ آفات کے ضابطوں کے تحت ہر مہوک کے اہل خانہ کو چار چار لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی جائے گی۔
Khan Sir Coaching Centre: پٹنہ کوچنگ تنازع میں خان سر کے خلاف ایف آئی آر درج، گرفتاری کا خدشہ؛ آج عدالت میں سرنڈر کرنے کی اطلاعات
ذرائع کے مطابق ہفتہ 6 جون کو فیصل خان عرف خان سر پٹنہ کی کسی عدالت میں خود سپردگی (سرنڈر) کر سکتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ دوسری جانب پولیس نے طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں پر کان نہ دھریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔
Firing Near Khan Sir’s Campus in Patna: پٹنہ میں خان سر کے کیمپس کے قریب فائرنگ، پولیس نے جانچ کی شروع
خان سر کے ادارے کے اطراف کسی مجرمانہ واقعے کی یہ پہلی خبر نہیں ہے۔ اس سے قبل 10 مئی 2019 کو ان کے کوچنگ سینٹر کو دیسی بم حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس وقت خان جی ایس ریسرچ سینٹر کے باہر نامعلوم افراد نے یکے بعد دیگرے دو دیسی بم پھینکے تھے۔





