Bharat Express DD Free Dish

Patna

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر کر الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کیا۔ احتجاجی مارچ کی قیادت راشٹریہ جنتا دل کے کارگزار صدر اور اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو نے کی۔ ان کے ساتھ رکن پارلیمنٹ میسا بھارتی سمیت ’اتحاد‘ کے کئی سینئر لیڈر اور کارکن موجود تھے۔ مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔

حتمی طور پر منتخب کیے جانے والے کھلاڑیوں کے درمیان 17 سے 19 اکتوبر تک پریکٹس اور مسابقتی میچ منعقد کیے جائیں گے۔ ان مقابلوں میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کی بنیاد پر انہیں STCL کی 8 ٹیموں میں شامل کیا جائے گا۔اس کے بعد STCL سیزن-1 کا انعقاد 21 سے 28 اکتوبر 2026 تک راجستھان کے ناتھ دوارہ واقع ڈاکٹر مدن پالیوال میراج اسٹیڈیم میں کیا جائے گا۔ لیگ کے دوران نوجوان کھلاڑیوں کو تجربہ کار کرکٹرز سے سیکھنے کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا بھی موقع ملے گا۔

پانی کی سطح بڑھنے یا سیلاب کی صورتحال پیدا ہونے پر انتظامیہ اور امدادی ٹیموں کی ہدایات پر فوری عمل کرنے کو کہا گیا ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ محکمہ نے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹر سے رابطہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

انتظامیہ نے خاص طور پر بچوں اور خواتین سے اپیل کی ہے کہ وہ ندی کے پانی کے قریب نہ جائیں اور نہانے یا کھیلنے سے گریز کریں۔ میونسپل کارپوریشن کو پانی جمع ہونے والے علاقوں میں پمپ کا انتظام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

بیریکیڈنگ توڑی، پولیس سے جھڑپ،70ویں BPSC امتحان منسوخ کرنے سمیت کئی مطالبات پر طلبہ کا احتجاج، پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا، مظاہرین کا الزام ہے کہ امتحان میں مبینہ طور پر پیپر لیک اور دیگر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔

مشتعل ہجوم نے پولیس کی گاڑیوں، بسوں اور موٹر سائیکلوں سمیت تقریباً 10 گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ سڑک کے کنارے کھڑی 3 سے 4 موٹر سائیکلوں کو بھی نذرِ آتش کیے جانے کی اطلاع ہے۔ اس کے علاوہ مظاہرین نے ٹریفک پولیس کی ایک چوکی کو بھی آگ لگا دی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔واقعے کے بعد پولیس اور انتظامیہ نے فوری طور پر علاقے میں سکیورٹی بڑھا دی۔

عینی شاہدین کے مطابق تصادم کے دوران دونوں جانب سے لاٹھی ڈنڈوں اور پتھروں کا استعمال کیا گیا۔ کئی کارکن ہاتھوں میں ڈنڈے لیے ہوئے تھے اور ایک دوسرے پر حملہ آور ہوگئے۔ جھڑپ کے دوران متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا اور ان کے شیشے توڑ دیے گئے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی شاہ پور تھانے کی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور قانونی کارروائی مکمل کی۔ اس کے بعد پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں اہل خانہ کے حوالے کر دی گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ محکمہ آفات کے ضابطوں کے تحت ہر مہوک کے اہل خانہ کو چار چار لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق ہفتہ 6 جون کو فیصل خان عرف خان سر پٹنہ کی کسی عدالت میں خود سپردگی (سرنڈر) کر سکتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ دوسری جانب پولیس نے طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں پر کان نہ دھریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔

خان سر کے ادارے کے اطراف کسی مجرمانہ واقعے کی یہ پہلی خبر نہیں ہے۔ اس سے قبل 10 مئی 2019 کو ان کے کوچنگ سینٹر کو دیسی بم حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس وقت خان جی ایس ریسرچ سینٹر کے باہر نامعلوم افراد نے یکے بعد دیگرے دو دیسی بم پھینکے تھے۔