Bharat Express DD Free Dish

Patna

جمعہ کے روز پٹنہ میں ہزاروں ٹیچر امیدواروں نے بہار پبلک سروس کمیشن (بی پی ایس سی) کی جانب سے ٹیچر بھرتی امتحان ٹی آر ای-4 کا نوٹیفکیشن فوری جاری کرنے کے مطالبے کو لے کر احتجاج کیا تھا۔

پٹنہ میں بی پی ایس سی ٹیچرامیدواروں نے ٹی آرای-4 نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے پر ناراض ہو کر زبردست احتجاج کیا۔ وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کے دوران پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی اور پھر صورتحال خراب ہوگئی، جس کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ بھرتی کے عمل میں تاخیر اور عمر کی حد ختم ہونے پر امیدوار ناراض ہیں۔

روہنی آچاریہ نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت اور پولیس تفتیش کو طول دے کر اور اس کی سمت بھٹکا کر معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کے ساتھ لیپاپوتی کرنے والے ملزمان کو کسی بڑے دباؤ کی وجہ سے بچانا چاہ رہی ہے۔

ٹرمینل کی صلاحیت بڑھانے کے منصوبے کے دوران، ٹرمینل کے آس پاس کے اسٹیشنوں کو بھی مدنظر رکھا جائے گا تاکہ مجموعی صلاحیت میں توازن برقرار رہے۔ مثال کے طور پر پونے کے معاملے میں، پونے اسٹیشن پر پلیٹ فارم اور اسٹیبلنگ لائنوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ہڈپسر، کھڈکی اور آلندی میں بھی صلاحیت بڑھانے پر غور کیا گیا ہے۔

روڈ شو کے آغاز سے پہلے ہی بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں کے کنارے اپنے لیڈر کا انتظار کرتے دکھائی دیے۔ پٹنہ کی سڑکوں پر سیکورٹی حصار کے دونوں جانب عوام کا ہجوم نظر آ رہا تھا۔ جیسے ہی وزیر اعظم کا روڈ شو شروع ہوا، پورا پٹنہ ’مودی زندہ باد‘ اور ’جے شری رام‘ کے نعروں سے گونج اٹھا۔

شکایت میں وکلاء نے درخواست کی ہے کہ امن سکسینا اور بھوشپ کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور وکلاء کی عزت و وقار برقرار رہے اور آئندہ کسی وکیل کو اس طرح کے جارحانہ رویے اور بدسلوکی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

گزشتہ 35 برسوں سے یہ نشست بی جے پی کے لیے یکطرفہ ثابت ہوئی ہے۔ 2020 کے اسمبلی انتخاب میں بھی بی جے پی کے ارون کمار سنہا نے راشٹریہ جنتا دل کے دھرمندر کمار کو بڑے فرق سے شکست دی۔ ارون کمار سنہا کو 81,400 ووٹ ملے، جبکہ دھرمندر کمار کو 54,937 ووٹ حاصل ہوئے۔

دیپانکر بھٹاچاریہ نے کہا:"نوجوانوں کے سامنے اصل سوال یہ نہیں ہے کہ وزیر اعلیٰ کون بنے گا، اصل سوال یہ ہے کہ روزگار کون دے گا۔"

بہار میں انتخابی ماحول بنتے ہی یہ کانکلیو بہت اہم مانا جا رہا ہے، جہاں ریاست کی ترقی، روزگار، تعلیم، قانون و انتظام، ذات پات کی سیاست، اتحاد و محاذ آرائی جیسے اہم موضوعات پر براہِ راست مکالمہ ہوگا۔

امت شاہ 17 ستمبر کی شام پٹنہ پہنچیں گے اور 18 ستمبر کو پارٹی کے عہدیداروں، ارکانِ اسمبلی اور کارکنان کے ساتھ اہم اجلاس کریں گے۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد تنظیمی سطح پر پارٹی کو مضبوط بنانا اور انتخابی حکمتِ عملی پر تبادلہِ خیال کرنا ہے۔ اجلاس میں امت شاہ پارٹی کی جیتنے والی نشستوں اور اراکین کی کارکردگی پر نظرِثانی کریں گے۔