الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ کسی سوشل میڈیا پوسٹ کو لائک کرنا اسے شیئر کرنے یا پھیلانے کے مترادف نہیں ہے اور نہ ہی ’’اشتعال انگیز‘‘ مواد شیئر کرنے سے متعلق انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی شق کے تحت سزا کا مستحق ہے۔ جسٹس سوربھ سریواستو نے یہ مشاہدہ 17 اپریل کو عمران خان نامی شخص کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے کیا، جس پر انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے سیکشن 67 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، جو الیکٹرانک طور پر ’’فحش‘‘ مواد شائع کرنے یا شیئر کرنے کی سزا سے متعلق ہے۔
عمران خان کے ذریعے چودھری فرحان عثمان نامی ایک شخص کی فیس بک پوسٹ لائیک کیے جانے کے بعد اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس پوسٹ میں آگرہ کلکٹریٹ کے قریب جمع ہونے والے ایک احتجاجی اجتماع اور صدر کو میمورنڈم سونپنے کا ذکر تھا۔ عمران پر الزام تھا کہ اس نے ’’سوشل میڈیا پر کچھ اشتعال انگیز پیغامات شائع کیے، جس کے نتیجے میں مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے تقریباً 600-700 افراد نے بغیر اجازت جلوس نکالا۔‘‘
جج نے کہا کہ ایکٹ کا متعلقہ سیکشن ’’فحش‘‘ مواد سے متعلق ہے نہ کہ ’’اشتعال انگیز‘‘ مواد سے
پولیس نے الزام لگایا تھا کہ عمران کے اس فعل سے امن کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ کے علاوہ پولیس نے خان کے خلاف فسادات اور غیر قانونی اسمبلی سے متعلق تعزیرات ہند کی دفعات کے تحت بھی مقدمہ درج کیا۔ عدالت میں خان کے وکیل نے کہا کہ ان کے فیس بک اکاؤنٹ پر ایسا کوئی مواد نہیں ملا۔ دوسری جانب استغاثہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے فیس بک سے زیر بحث پوسٹس کو ڈیلیٹ کردیا تھا، تاہم یہ مواد واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دستیاب تھا۔
جج نے مقدمہ خارج کیا
جج نے کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خان نے صرف زیر بحث پوسٹ کو لائک کیا تھا اور یہ عمل انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے سیکشن 67 کے تحت جرم نہیں ہے۔ جج نے یہ بھی کہا کہ ایکٹ کا سیکشن 67 ’’فحش مواد‘‘ پر لاگو ہوتا ہے، ہر ’’اشتعال انگیز‘‘ مواد پر نہیں۔ عدالت نے عمران خان کے خلاف مقدمے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ’’درخواست گزار کے وکیل کو سننے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد مجھے کوئی ایسا مواد نہیں ملا جو درخواست گزار کو کسی قابل اعتراض پوسٹ سے جوڑ سکے، کیوں کہ درخواست گزار کے فیس بک اور واٹس ایپ اکاؤنٹس میں کوئی اشتعال انگیز پوسٹ موجود نہیں ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




