Bharat Express DD Free Dish

parliament monsoon session

کھڑگے کے اس بیان پر حکمراں جماعت کے ارکان نے شدید احتجاج کیا۔ ایوان کے قائد اور مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ اس قسم کے بیانات سے معاشرے میں بے چینی اور انتشار پیدا ہوگا۔ انہوں نے کھڑگے سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے دعوے کے حق میں منوسمرتی کی اصل مستند نقل پیش کریں۔

کرن رجیجو نے مزید کہا کہ غیر پارلیمانی الفاظ سے متعلق قواعد حکومت نے نہیں بنائے بلکہ یہ پارلیمانی ضابطوں کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق، "اگر آپ پارلیمانی روایات کے دائرے میں رہ کر بات کریں گے تو ہم پوری توجہ سے آپ کی بات سننے کے لیے تیار ہیں، لیکن آپ نے بار بار ایسے الفاظ استعمال کیے جن پر اعتراض ہے۔ اس کے باوجود ہم نے آپ کی تقریر میں خلل ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔

سماج وادی پارٹی کے سربراہ نے دسویں، بارہویں اور نیٹ  سمیت مختلف امتحانات میں پیپر لیک کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مسلسل بے ضابطگیوں سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے نیٹ امتحان سے متعلق ان طلبہ کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے مبینہ طور پر اپنی جان گنوائی، اور متاثرہ خاندانوں کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ دہرایا۔

"کارروائی ملتوی کرنے سے قبل اسپیکر اوم برلا نے تمام سیاسی جماعتوں کےلیڈروں سے آپس میں مشاورت کر کے اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی اپیل کی تاکہ شام 5 بجے کے بعد اس اہم بل پر بحث شروع کی جا سکے۔ انہوں نے کہا، "میں تمام جماعتوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ باہمی مشاورت کے ذریعے کوئی راستہ نکالیں۔

بل پیش ہونے کے بعد لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے ارکان کو اس پر ترامیم پیش کرنے کے لیے دوپہر ایک بجے تک کا وقت دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک نہایت اہم بل ہے، جس پر ایوان اور ملک کی توقعات وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق تمام سیاسی جماعتیں کافی عرصے سے اس موضوع پر قانون سازی کا مطالبہ کر رہی تھیں اور یہ امتحانی نظام میں اصلاحات کی سمت پہلا اہم قدم ہے۔

ایوان کے باہر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے حق میں احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی مطالبہ کیا کہ وزیر تعلیم استعفیٰ دیں، اس کے بعد ہی پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بامعنی بحث ہو سکتی ہے۔

لوک سبھا میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے نیٹ پیپر لیک معاملے پر التوا کی تحریک (Adjournment Motion) پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے ایوان میں جواب دینے کا مطالبہ کیا۔

وزیراعظم مودی نے کہا ’’جہاں حقائق اور دلیل ہوتی ہے، وہاں طوفان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ اگر دلیل مضبوط ہو تو پُرسکون ذہن سے بھی اپنی آواز کو بلند کیا جا سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حقائق اور دلیل کے ساتھ ایوان کی بحث کو مزید بامعنی بنایا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہر آواز کو موقع ملنا چاہیے اور ہر خیال کا احترام ہونا چاہیے، یہی پارلیمنٹ میں ان کا کردار ہے۔

مرکزی وزیر نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ اگر کسی معاملے پر اختلاف ہے تو اسے جمہوری طریقے سے ایوان کے اندر بحث کے ذریعے پیش کیا جائے تاکہ پارلیمنٹ کا وقار بھی برقرار رہے اور قانون سازی کا عمل بھی متاثر نہ ہو۔انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اپوزیشن کی بات سننے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور امید ظاہر کی کہ اپوزیشن بھی حکومت کا مؤقف تحمل کے ساتھ سنے گی۔

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں اپوزیشن کا ہنگامہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ ایس آئی آرسمیت مختلف مسائل پرلوک سبھا اورراجیہ سبھا میں کافی ہنگامہ ہوا، جس کی وجہ سے کارروائی دوپہرتک ملتوی کرنی پڑی۔ ناراض لوک سبھا اسپیکراوم برلا نے ممبران پارلیمنٹ کو خبردارکیا کہ عوام نے انہیں سرکاری املاک کوتباہ کرنے کے لئے منتخب نہیں کیا ہے اوراگرحالات بہترنہیں ہوئے تو سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔