Bharat Express DD Free Dish

parliament monsoon session

لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ سوال و جواب کے دوران اپوزیشن کے اراکین مسلسل نعرے بازی کرتے رہے اور کچھ ممبران ویل تک آ گئے۔ ا

لوک سبھا میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ وہ حکومت سے سوال پوچھتے پوچھتے ملک سے سوال پوچھنے لگے۔ ان کے اس بیان پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے کہا کہ راجناتھ سنگھ جی بہت سینئر لیڈر ہیں اور ہمیں امید تھی کہ کم از کم وہ کچھ مدعوں پر جواب دیں گے، لیکن، ایک بھی مدعے پر بات نہیں ہوئی۔

پارلیمنٹ کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) نے آپریشن سندور پر بحث کے لیے بالترتیب دونوں ایوانوں کو 16 گھنٹے اور 9 گھنٹے کا وقت دیا ہے۔

اجلاس کے دوسرے دن کے آغاز پر اپوزیشن لیڈروں نے پارلیمنٹ کے ’مکر دوار‘ کے باہر مشترکہ احتجاج کیا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر بہار میں انتخابات سے قبل SIR مہم کو ’متعصبانہ اور غلط‘ انداز میں چلانے کا الزام لگایا۔ اس احتجاج میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور ایس پی سربراہ اکھلیش یادو جیسے بڑے لیڈروں نے شرکت کی۔ وہ تختیاں اور پوسٹر لہرا رہے تھے جس میں انتخابی ہیرا پھیری کا الزام لگایا گیا تھا۔

وزیراعظم کو بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) میں ہونے والی بات چیت اور ایوان میں ان کے بیان کے مطالبے پر اپوزیشن کے اصرار کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کی شروعات ہنگامے کے ساتھ ہوئی۔ اپوزیشن پارٹیوں نے آپریشن سندوراورپہلگام حملے سے متعلق ایوان میں بحث کا مطالبہ کیا، جس سے لوک سبھا کی کارروائی دو بار ملتوی کرنی پڑی۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت معنیٰ خیزبحث کے لئے تیارہے۔

ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے انسٹاگرام پر ایس پی لیڈروں کے ساتھ ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا - "پہلگام کا سچ بتائیں، اپنی غلطی نہ چھپائیں! پہلگام میں جو غلطی ہوئی، وہ خامی تھی یا غلطی! آپ خارجہ پالیسی میں ناکام، اب کوئی ملک آپ کے ساتھ نہیں ہے!

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس آج سے شروع ہورہا ہے۔ وزیر اعظم مودی سیشن سے پہلے ملک کو پیغام دیں گے۔ اپوزیشن پارٹی کانگریس نے مرکزی حکومت کو گھیرنے کے لیے 8 ایشوزکی فہرست تیارکی ہے۔ ایسے میں پہلے دن ہی پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی کا امکان ہے کیونکہ اپوزیشن پارٹی سخت رویہ دکھا سکتی ہے۔

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 21 جولائی سے شروع ہو رہا ہے۔ حکومت نے بحث کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم خود پارلیمنٹ میں ان حساس موضوعات پر بولیں گے؟ اور کیا حکومت اپوزیشن کے تمام سوالات کا کھل کر جواب دے گی یہ دیکھنا کافی اہم ہوگا؟

مانسون سیشن 21 جولائی سے شروع ہو کر 21 اگست تک چلے گا۔ اس دوران کئی اہم بلوں پر بحث اور ان کی منظوری کا کام کیا جائے گا۔ حکومت چاہتی ہے کہ اس سیشن میں بغیر کسی رکاوٹ کے ضروری قانون سازی مکمل ہو۔