Bharat Express DD Free Dish

Pahalgam Terror Attack

آپ کو بتادیں کہ امریکہ کے فلوریڈا میں کام کرنے والے آئی ٹی ملازم بیتان ادھیکاری کو 22 اپریل کو پہلگام میں ان کی اہلیہ کے سامنے قتل کر دیا گیا تھا۔ بیتان ادھیکاری کے بوڑھے والدین سمیت ان کے اہل خانہ کولکاتہ کے پٹولی میں رہتے ہیں۔

ٹریومنٹ کے سی ای او آلوک کے سنگھ نے کہا ہے کہ "پاکستان، ترکی اور آذربائیجان جیسے ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کی وجہ سے، ہم نے ٹریومنٹ میں ایک مضبوط اور ذمہ دارانہ موقف اختیار کیا ہے۔ ہم نے ترکی اور آذربائیجان کے بائیکاٹ کے ہندوستانیوں کی کال کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔"

جموں و کشمیر پولیس کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی نے جنوبی کشمیر میں 20 مقامات پر چھاپے مار کر ایک سلیپر سیل ماڈیول کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس دوران بھاری مقدار میں قابل اعتراض اشیاء برآمد ہوئیں۔ اس کے علاوہ کچھ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق بھارت نے آپریشن سندور کے تحت دہشت گردوں کے کیمپوں پر حملے کے بعد پاکستان کو بھی آگاہ کیا تھا۔ یہ معلومات 7 مئی 2025 کی صبح ڈی جی ایم او کی سطح پر دی گئی۔

وانگ یی نے کہا کہ چین ڈوول کے اس بیان کی تعریف کرتا ہے کہ جنگ ہندوستان کی پسند نہیں ہے اور پوری امید ہے کہ دونوں فریق پرامن رہیں گے اور تحمل کا مظاہرہ کریں گے۔ ہم اختلافات کو بات چیت اور مشاورت سے حل کریں گے

بھارتی وزارت توانائی کے ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے بجلی کے نظام میں کسی بڑے سائبر حملے یا خرابی کی کوئی اطلاع نہیں ملی، اور تمام اہم تنصیبات معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ اس دعوے کو افواہ اور غلط معلومات پھیلانے کی ایک کوشش قرار دیا گیا ہے۔

زین العابدین علی خان نے کہا کہ 1971 میں میں لاہور گیا اور چائے پی اور کھانا کھایا، جس طرح اسرائیل غزہ پر قبضہ کر کے اپنی حکومت قائم کر رہا ہے، اسی طرح بھارت کو پاکستان کے تمام شہروں پر قبضہ کر کے اتحاد کے دھاگے میں باندھنا چاہیے۔

مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ ہندوستان ہمارا ملک ہے، اس کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور اس کے لیے ہمیں ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ہم اپنی فوج کے ساتھ ہر طرح سے کھڑے ہیں۔اس لئے عوام کو بھی یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ مضبوط رہیں۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں ہندوستان کی تینوں افواج نے آپریشن سندور کے ذریعے پاکستان اور پاک مقبوضہ کشمیر کے متعدد مقامات پر میزائل حملوں کے ذریعے دہشت گردی کے اڈے تباہ کئے تھے جس میں قریب 100دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچایا گیا۔

آپریشن سندورکوانجام دینے کے بعد حکومت نے آل پارٹی میٹنگ بلائی ہے۔ اس میٹنگ میں حکومت نے اپوزیشن پارٹیوں کواس آپریشن کے بارے میں جانکاری دی۔