Bharat Express DD Free Dish

Pahalgam Terror Attack

پنجاب حکومت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے پورے صوبے میں ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے۔" پنجاب پولیس سمیت تمام سیکیورٹی ایجنسیوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے واضح کیا تھا کہ ہندوستان اس کا جواب جلد ہی ملے گا۔ اس کے بعد 29 اپریل کو قومی سلامتی کے مشیر سمیت تینوں آرمی چیفس، سی ڈی ایس اور سینئر وزراء کے ساتھ ایک میٹنگ میں وزیر اعظم نے کہا کہ فوج کو یہ فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا ہے کہ ہندوستان کب اور کیسے جواب دے گا۔

بھارتی فوج کی حالیہ کارروائی کو پورا ملک سلام پیش کر رہا ہے۔ ریسلر اور کانگریس کی رکنِ اسمبلی ونیش پھوگاٹ نے اس پر جذباتی ردِعمل دیا ہے۔ ونیش نے 2024 کے ہریانہ اسمبلی انتخابات میں جولانا سیٹ سے کامیابی حاصل کی تھی۔

آپریشن سندور کے حوالے سے اپنے پہلے بیان  میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ ہندوستانی فوج نے تیاری کے مطابق، بغیرکسی غلطی کے کارروائی کوانجام دیا ہے۔ یہ ہمارے لئے فخرکا لمحہ ہے۔ وزیراعظم مودی نے  اس کیلئے فوج کی تعریف کی۔

ہندوستانی فضائیہ نے آپریشن سندور میں جدید ترین اور ہائی ٹیک ہتھیاروں، اسکلیپ کروز میزائلوں سے لیس رافیل جیٹ اور LMS (لاجسٹک مینجمنٹ سسٹم) ڈرون کا استعمال کیا۔

فیروز پور میں حسینی والا بارڈر سے ملحقہ سرحدی دیہات کے بہت سے لوگ اپنا سامان ٹریکٹر ٹرالیوں پر لاد کر محفوظ مقامات پر جا رہے ہیں۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ سرحد پر حالات بدستور کشیدہ ہیں

اسلامی اسکالر، سینئرصحافی، کئی کتابوں کے مصنف اوردہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹرظفرالاسلام خان نے کہا کہ اسلام کے نام پرکسی بھی دہشت گردی کو نہیں جوڑا جاسکتا۔ اگرکوئی انسان غلط کرتا ہے، تواسلام اس کے لئے ہرگز ذمہ دارنہیں ہے۔

 پاکستان میں دیر رات ہندوستان کی طرف سے کئے گئے ایئراسٹرائیک کووزیراعظم نریندرمودی نے ملک کے لئے فخرکا لمحہ قراردیا ہے۔ وزیراعظم مودی نے کابینہ کے سبھی اراکین ’آپریشن سندور‘ کی جانکاری دی ہے۔ کابینہ نے وزیراعظم مودی کی قیادت پر مکمل اعتماد ظاہرکیا ہے۔

ہندوستان کے فضائی حملے کے بعد پاکستان نے کسی ناخوشگوار واقعے کے خدشے کے پیش نظر تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ اس سے قبل پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے دو ٹاپ دہشت گرد میں سب سے پہلا نام حافظ عبدالمالک کا ہے جو لشکر کے بڑے آپریشنل کمانڈر بتائے جاتے ہیں۔ وہ مریدکے میں لشکر کے ہیڈ کوارٹر 'مرکز طیبہ' میں موجود تھے جہاں یہ حملہ ہوا۔