Bharat Express DD Free Dish

Pahalgam Terror Attack

ذرائع کے مطابق یہ اقدام تنازعہ کشمیر کو بین الاقوامی بنانے کے لیے پاکستان کی بڑھتی ہوئی کوششوں کے درمیان سامنے آیا ہے ، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تبصرے بھی شامل ہیں۔

دیوڑا نے اس کارروائی کے لیے وزیر اعظم کی تعریف کی، لیکن فوج کو 'وزیر اعظم کے قدموں پر جھکنے' کے طور پر بیان کرنے والے ان کے بیان نے تنازع کھڑا کر دیا۔ اب اپوزیشن نے اسے فوج کی توہین قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تنقید شروع کردی ہے۔

حال ہی میں، جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) نے قومی سلامتی کے خدشات کی بنا پر ترکی کی انونو یونیورسٹی کے ساتھ اپنا معاہدہ معطل کیا، جبکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ (جے ایم آئی) نے بھی ترکی یونیورسٹیوں کے ساتھ تمام تعاون معطل کر دیے ہیں ۔

پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے خبردار کیا کہ اگر انڈس واٹر ٹریٹی کا تنازع حل نہ ہوا تو بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ بندی معاہدہ ختم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بھارت کے معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو "جنگی عمل" قرار دیا۔

پی ایم مودی نے کہا کہ اب آپریشن سندور ہندوستان کا نیا معمول ہے،اس لئے اگر ہندوستان پر کوئی دہشت گردانہ  حملہ ہوا تو ہم خود جواب دیں گے۔ بھارت کسی قسم کی جوہری بلیک میلنگ برداشت نہیں کرے گا، ہم دہشت گردی اور دہشت گرد لیڈروں کو الگ سے نہیں دیکھیں گے ۔

این ایس ای کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹیو افسر آشیش چوہان نے کہا کہ وہ اس مشکل وقت میں متاثرہ کنبوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ یہ پورے ملک کے لیے ایک غمناک لمحہ ہے۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کافی بڑھ گئی تھی۔ امریکی مداخلت کے بعد دونوں ممالک نے جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ اس حوالے سے ہندوستان اور پاکستان کے ڈی جی ایم او کے درمیان بات چیت ہوئی۔

بھارتی فضائی کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف بھارت کی نئی حکمت عملی کا اظہار، یہ کارروائیاں”نپی تلی، محدود اور غیر اشتعالی“ نوعیت کی تھیں۔

آپریشن میں دیسی آکاش سسٹم استعمال کیا گیا۔ پاکستان کا چینی نژاد میزائل پی ایل-15 مارگرایا گیا۔ پاکستان کی ڈرون لیزرگن کوبھی نشانہ بنایا گیا۔ اس کے ساتھ پاکستان کے نورخان ایئربیس کو بھی تباہ کردیا گیا۔

کشیدگی کے بیچ پی ایم مودی آج رات 8 بجے قوم سےخطاب کریں گے۔ وزیراعظم نریندر مودی کا خطاب انتہائی اہم مانا جارہا ہے چونکہ پاکستان کے ساتھ جو تعلقات ہیں اس کے پیش نظر پی ایم مودی کا یہ خطاب کافی معنی خیز ہے۔