پاکستان کا حامی ترکیہ بری طرح پھنس گیا ہے۔ اسے بھارت مختلف طریقوں سے بڑے اور زوردار جھٹکے دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں اب دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی نے بھی ترکیہ کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کر دیا ہے۔ یونیورسٹی نے خود یہ جانکاری دی ہے، اس سے پہلے جے این یو نے بھی ایسا ہی سخت فیصلہ لیا تھا، اس کی وجہ قومی سلامتی کو بتایا گیا تھا۔جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے جامعہ کی جانب سے ترک حکومت کے ساتھ دستخط کیے گئے تمام ایم او یوز کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ جامعہ اس وقت ملک کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ جامعہ سے پہلے، جے این یو نے بھی قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے ترکیہ کے ساتھ تمام معاہدوں کو معطل کر دیا تھا۔ اب کچھ لوگ اسے ترکیہ کے خلاف ہندوستان کی تعلیمی اسٹرائیک سمجھ رہے ہیں۔ اس سے پہلے ایپل اور ماربل اور ایویشن کلیئرنس کی منسوخی کے فیصلے نے ترکیہ کو مشکل میں ڈال رکھا ہے۔

وہیں دوسری جانب حیدرآباد کی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) نے ترکیہ کے یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ اپنے تعلیمی معاہدے (ایم او یو) کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ ترکیہ کی جانب سے پاکستان کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کی حمایت کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا گیا، جو کہ بھارت-پاکستان کشیدگی کے تناظر میں اہم ہے۔ مانو نے 2 جنوری 2024 کو یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ پانچ سالہ معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت اسکول آف لینگویجز، لنگوئسٹکس اینڈ انڈولوجی میں ترکی زبان کا ڈپلومہ کورس شروع کیا گیا تھا، اور ایک ترک پروفیسر کی خدمات بھی حاصل کی گئی تھیں۔
The Maulana Azad National Urdu University @officialmanuu cancels all MoUs with Turkey.#NationFirst@rashtrapatibhvn @PMOIndia @narendramodi @EduMinOfIndia @dpradhanbjp @AmitShah @HMOIndia @SyedAinulHasan3 @SriMspeaks @skishtiaque @ugc_india @PIB_India
— Maulana Azad National Urdu University (@officialmanuu) May 15, 2025
مانو کا یہ اقدام بھارتی یونیورسٹیوں کی جانب سے ترکی کے تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون ختم کرنے کی بڑھتی ہوئی فہرست کا حصہ ہے۔ حال ہی میں، جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) نے قومی سلامتی کے خدشات کی بنا پر ترکی کی انونو یونیورسٹی کے ساتھ اپنا معاہدہ معطل کیا، جبکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ (جے ایم آئی) نے بھی ترکی یونیورسٹیوں کے ساتھ تمام تعاون معطل کر دیے ہیں ۔ یہ فیصلہ بھارت میں ترکیہ کے پاکستان کی حمایت کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی غم و غصے اور ترکی کے کاروباروں، سیاحت، اور مصنوعات کے بائیکاٹ کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




