Bharat Express DD Free Dish

Pahalgam Terror Attack

پریڈ کی جھلکیوں میں ڈویژن کیڈٹ کیپٹن شریتی دکش شامل تھیں، جنہوں نے بی اے اسٹریم میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور ایئر اسٹاف ٹرافی حاصل کی۔ لکی کمار نے بی ایس سی، پرنس کمار کشواہا نے کمپیوٹر سائنس، اور ادیویر سنگھ نیگی نے بی ٹیک اسٹریم میں سرفہرست پوزیشن حاصل کی۔

آپریشن سندور نے بھارت کے "میک ان انڈیا" اور "آتماں نربھر بھارت" پروگراموں کی کامیابی کو اجاگر کیا، جن کی بدولت 2014 سے مقامی دفاعی پیداوار 30 فیصد سے بڑھ کر 2025 تک 65 فیصد ہو گئی، جس کا ہدف 2030 تک 90 فیصد ہے۔

کانگریس کے سینئرلیڈرراہل گاندھی نے وزیراعظم نریندرمودی کوخط لکھ کرپاکستانی گولہ باری سے متاثرہ جموں وکشمیرکے پونچھ ضلع کے شہریوں کے لئے فوری راحت اوربازآباد کاری کا مطالبہ کیا ہے۔ پونچھ دورے کے دوران انہوں نے متاثرین کی خستہ حالی دیکھی اور مرکزی حکومت سے متاثرہ علاقوں کے لئے بڑے پیمانے پر منصوبہ بنانے کی گزارش کی۔

پاکستان کی معیشت پہلے ہی کمزور ہے، اور آپریشن سندور نے اس کی فوجی صلاحیتوں کو مزید نقصان پہنچایا۔ پاکستانی فضائیہ کے ریڈار نیٹ ورک اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کی تباہی نے اس کی دفاعی صلاحیتوں کو پانچ سال پیچھے دھکیل دیا۔

آپریشن سندور کے دوران بھارت نے نہ صرف دہشت گرد ٹھکانوں بلکہ پاکستانی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، جو ایک نئی اسٹریٹجک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ مضمون کے مطابق، پاکستانی فضائیہ کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتے ہوئے اس کے چینی اور ترک ساختہ ہتھیاروں کی ناکامی کو اجاگر کیا گیا۔

عالمی برادری کو یہ پیغام دیا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے۔ تاہم، کچھ اپوزیشن رہنماؤں، جیسے کہ سی پی آئی کے ڈی راجہ، نے اس بات پر تنقید کی کہ حکومت نے آپریشن سے پہلے پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا، جس سے اندرونی سیاسی بحث چھڑ گئی۔

اس سفارتی اقدام نے بھارت کو عالمی حمایت حاصل کرنے میں کامیابی دلائی ہے، لیکن کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بھارت اس تنازع سے مکمل طور پر فاتح کے طور پر ابھرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے واضح کیا کہ آپریشن سندور جاری ہے اور موجودہ جنگ بندی صرف ایک وقفہ ہے۔

وزیرداخلہ امت شاہ آج سے جموں کے دو روزہ دورے پر رہیں گے۔ شام کو راج بھون میں اعلیٰ سیکورٹی کی میٹنگ لیں گے۔ جمعہ کے روز پونچھ جائیں گے۔ یہاں پاکستان کی گولہ باری کے متاثرین سے ملاقات کریں گے۔

امرناتھ یاترا کی تیاریوں سے متعلق جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے گلمرگ میں ایک ہائی لیول میٹنگ کی، جس میں انہوں نے پہلگام حملے کے بعد سے وادی میں بڑھتے چیلنجزپر تبادلہ خیال کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مقامی لوگوں اورسیاحوں کی سیکورٹی کے پختہ انتظامات کا بھی بھروسہ ظاہرکیا۔

جموں وکشمیرکے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا کہ یہ پہلی بار ہے جب اس حکومت نے جموں یا سری نگرکے باہرکابینہ کی میٹنگ کی ہے۔ ہم نے اپنی حکومت کے ایجنڈے کے مطابق کام کیا ہے۔ جموں وکشمیر میں ترقی اور خوشحالی کا ایجنڈا خون خرابے کے سبب نہیں رکے گا۔