Bharat Express DD Free Dish

Pahalgam Terror Attack

سابق وزیرداخلہ پی چدمبرم پرتنقید کرتے ہوئے وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ مجھے جان بوجھ کربہت افسوس ہوا کہ کل اس ملک کے سابق وزیرداخلہ پی چدمبرم نے سوال اٹھایا کہ کیا ثبوت ہے کہ یہ دہشت گرد پاکستان سے آئے تھے۔ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں؟

یہ بتانے کو تیار نہیں ہیں کہ ان ہفتوں میں انہوں نے کیا کیا ہے۔ کیا انہوں نے دہشت گردوں کی شناخت کی ہے؟ یا یہ معلوم کیا ہے کہ وہ کہاں سے آئے تھے؟ کیا پتا، وہ ملک کے ہی دہشت گرد ہوں۔

ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے انسٹاگرام پر ایس پی لیڈروں کے ساتھ ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا - "پہلگام کا سچ بتائیں، اپنی غلطی نہ چھپائیں! پہلگام میں جو غلطی ہوئی، وہ خامی تھی یا غلطی! آپ خارجہ پالیسی میں ناکام، اب کوئی ملک آپ کے ساتھ نہیں ہے!

جموں و کشمیرکے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا نے پاکستان کودہشت گردی کے حوالے سے سخت وارننگ دی ہے۔ انڈس واٹرٹریٹی کی معطلی کا ذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کواس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ منوج سنہا نے کہا کہ ہندوستان کسی بھی قیمت پردہشت گردی کو مزید برداشت نہیں کرے گا اور ہر حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

پہلگام حملے کے بعد کانگریس سمیت انڈیا بلاک نے ایک خصوصی پارلیمانی سیشن کا مطالبہ کیا تھا، لیکن حکومت نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ حکومت نے مانسون سیشن کی تاریخیں 47 دن پہلے اعلان کرکے خصوصی سیشن سے بچنے کی کوشش کی۔

وزیراعظم مودی نے صدر ملیئی کو بھارت کے دورے کی دعوت بھی دی، جو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

جموں میں کمیٹی کے ارکان اعلیٰ انتظامی حکام سے ابتدائی ملاقاتیں کریں گے تاکہ علاقے کی سیکیورٹی تیاریوں اور ترقیاتی چیلنجز کو سمجھ سکیں۔

پروتینی ہریش نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کو تربیت اور فنڈز فراہم کر رہا ہے۔ بھارت نے آپریشن سندور کے ذریعے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کرکے انہیں مار گرایا لیکن پاکستان نے اس آپریشن میں مارے گئے دہشت گردوں کو سرکاری اعزازات سے نوازا۔

آپریشن سندور کے بعد یہ سفارتی کوششیں بھارت کے قومی اتحاد کی عکاسی کرتی ہیں، کیونکہ وفود میں این ڈی اے اور غیر این ڈی اے جماعتوں کے اراکین شامل تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے وفود سے ملاقات کر کے ان کی کوششوں کو سراہا۔

پہلگام حملے کی این آئی اے کی تحقیقات میں تیزی آگئی ہے اور آنے والے دنوں میں اس معاملے میں مزید گرفتاریاں ہوسکتی ہیں۔