Bharat Express DD Free Dish

Modi Government

شیوسینا (یوبی ٹی) کے واحد راجیہ سبھا رکن سنجے راوت نے الزام لگایا کہ بی جے پی 2029 تک کانگریس کے ساتھ کام کرنے والی کسی بھی علاقائی پارٹی کو نہیں رہنے دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر باغیوں کو دھمکی دی ہے اور اقتدار میں آنے پر انہیں سبق سکھانے کی بات کہی ہے۔

 عام آدمی پارٹی کے نیشنل کنوینر اروند کیجریوال نے دعویٰ کیا کہ پیپرلیک کا کاروباراربوں-کھربوں روپئے کا ہے اوراس کا پیسہ ٹاپ تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی نیت پیپرلیک روکنے کی نہیں ہے، اب نظام بدلنے کے لئے عوام کو سڑکوں پرآنا پڑے گا۔

مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی سمت اور انداز دونوں پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔جے رام رمیش نے خبردار کیا کہ پاکستان اب مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست اور سکیورٹی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ بنتا جا رہا ہے، جس کے بھارت کے لیے طویل مدتی اور دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔

یوپی کے کابینی وزیراور سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایس پی) کے سربراہ اوم پرکاش راج بھر نے دعویٰ کیا ہے کہ سماجوادی پارٹی میں جلد ہی بڑی ٹوٹ ہوسکتی ہے۔ راج بھر نے کہا کہ لوگوں کو مہاراشٹر اور مغربی بنگال کو بھول جانا چاہئے کیونکہ پوری سماجوادی پارٹی بی جے پی میں شامل ہونے کے لئے تیار ہے۔

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی 17 جون کو راجستھان کے کوٹا میں دشہرہ گراؤنڈ میں ایک میگا ریلی کرنے والے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو اس ملک گیر طلبہ تحریک کے حوالے سے پیغام دیا ہے۔ اپنے سوشل میڈیا ہینڈل "ایکس" پر ایک پوسٹ میں انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ میگا ریلی میں شامل ہوں۔

وزیر اعظم نے گزشتہ روز نوجوانوں کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا تھا کہ اسٹارٹ اپ انڈیا، ڈیجیٹل انڈیا، اسکل انڈیا اور اٹل انوویشن مشن جیسی اسکیموں نے نوجوانوں کو اختراع اور صنعت کاری کے میدان میں نئی توانائی فراہم کی ہے۔

وزیر داخلہ کے مطابق ملک میں اس وقت دو لاکھ سے زائد اسٹارٹ اپس فعال ہیں، جس کی بدولت بھارت دنیا کا تیسرا بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوان اب نوکری حاصل کرنے کے بجائے خود کاروبار شروع کر کے دوسروں کو روزگار فراہم کر رہے ہیں

وزیر اعظم نریندر مودی 13 سے 19 جون تک یورپ کے اہم دورے پر روانہ ہوں گے، جس کے دوران وہ فرانس، سلوواکیہ اور جی-7 سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ سات روزہ اس سفارتی دورے کو بھارت کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میناکشی نٹراجن کی نامزدگی قانونی بنیادوں پر نہیں بلکہ سیاسی دباؤ کے تحت مسترد کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اگر قانونی طور پر نامزدگی منسوخ کرنا ممکن نہیں تھا تو اس کے لیے دوسرا راستہ اختیار کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس اقدام کے ذریعے ریاست کے جمہوری وقار کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

دنیا کے اہم لیڈروں کی جانب سے جاری کیے گئے پیغامات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ نریندر مودی کی مسلسل عوامی حمایت اور انتخابی کامیابیاں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں عوام کے اعتماد کا مظہر ہیں۔ لیڈروں نے ان کی قیادت کو بھارت کی معاشی، سماجی اور سفارتی پیش رفت سے جوڑتے ہوئے اسے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔