US-Iran Talks: کیا ایران کے سامنے ڈونلڈ ٹرمپ پڑگئے ہیں کمزور؟ امن بات چیت کے لیے ایرانی قیادت سے براہ راست ملاقات پر آمادہ
اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے امریکی وفد روانہ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی مدت 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے، جس سے قبل یہ مذاکرات انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ اس عمل کے حوالے سے پُرامید نظر آتے ہیں، لیکن ایران کے سخت موقف کے باعث مذاکرات کی کامیابی پر اب بھی سوالیہ نشان برقرار ہے۔
Iran-US Talks: امریکہ کے ساتھ آئندہ مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں، ایران کے وزیر خارجہ کا سخت موقف، کہا-’’قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا‘‘
اسلام آباد میں مجوزہ بات چیت کو ممکنہ کشیدگی سے قبل آخری سفارتی موقع سمجھا جا رہا ہے، تاہم ایران کی سخت پوزیشن اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطہ ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑا ہو سکتا ہے۔
US-Iran Talks: جے ڈی وینس مذاکرات کے دوسرے دور کی قیادت کے لیے پیر کو پہنچیں گے پاکستان، سیزفائر ختم ہونے سے قبل اسلام آباد میں فیصلہ کن بات چیت
دو ہفتے کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے جا رہی ہے، جبکہ پہلے دور کے مذاکرات تہران اور واشنگٹن کے درمیان اہم معاملات پر تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ اسلام آباد میں ہونے والی یہ بات چیت ممکنہ طور پر مکمل تصادم سے قبل آخری سفارتی موقع سمجھی جا رہی ہے۔
Iran vs US-Israel Conflict: ”ایک گرام یورینیم بھی نہیں دیں گے!“ امریکہ کے مطالبے پر ایران کا دوٹوک جواب، کشیدگی میں اضافہ
ایرانی حکام کے اس سخت موقف نے جاری جوہری مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بیان سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی عمل متاثر ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی تعطل کا شکار ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ مسلسل دباؤ کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے اور اس کے مطالبات یکطرفہ ہیں، جن کا مقصد ایران کی خودمختاری کو محدود کرنا ہے۔
Iran Ceasefire Talks: جنگ بندی مذاکرات کے لیے امریکی وفد دوبارہ جائے گا پاکستان، ٹرمپ نے دی دھمکی، کہا-’’یہ آخری موقع ہے، معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے انفراسٹرکچر کو بنائیں گے نشانہ ‘‘
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے والی ہے۔ اس سے قبل مذاکرات کا پہلا دور کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا تھا، خاص طور پر جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر اختلافات برقرار رہے۔
Iranian Prez slams Trump: جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد کرنے کی کوششوں کو ایران نے کیا مسترد، ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت حملہ
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو آٹھ ہفتے گزر چکے ہیں، جس کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تنازع لبنان تک پھیل چکا ہے، جہاں اسرائیلی حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اگرچہ ایک نازک جنگ بندی فی الحال قائم ہے، تاہم اس کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات اب بھی غیر یقینی ہیں۔
Iran Agrees To Hand Over Nuclear Dust—Trump: ٹرمپ کا بڑا دعویٰ: ایران یورینیم حوالے کرنے پر آمادہ، امریکہ-ایران مذاکرات اہم مرحلے میں داخل
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ”نیوکلیئر ڈسٹ“ یعنی افزودہ یورینیم فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ یہ مواد ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی رہی ہے۔ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو سفارتی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ اس سے خطے میں امن کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔
Middle East Crisis: امریکہ کا ایران کے خلاف سخت معاشی دباؤ، تیل تجارت کرنے والے ممالک کو سیکنڈری پابندیوں کی وارننگ
واشنگٹن نے ’’آپریشن اکنامک فیوری‘‘ کے تحت ایران کی معیشت کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ بینکوں اور شراکت دار ممالک پر بھی شکنجہ کسنے کی پوری تیاری کرلی گئی ہے۔
Hezbollah Military Operations: حزب اللہ کے اسرائیلی اہداف پر 24 گھنٹوں میں 39 حملے، فوجی تنصیبات، گاڑیوں اور سرحدی علاقوں میں تعینات فوجی دستوں کو بنایا نشانہ
جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل کے سرحدی علاقوں میں قریبی فاصلے سے جھڑپیں بھی رپورٹ کی گئی ہیں، جس سے دونوں جانب صورتحال نہایت کشیدہ ہو گئی ہے۔ ادھر بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف ہدفی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
Iran-US War Energy Crisis: ایران-امریکہ جنگ کے بعد عالمی توانائی بحران سنگین، آبنائے ہرمز کھلنے کے باوجود اب سستا تیل ملنا مشکل
جنگ سے قبل عالمی سطح پر تیل اور گیس کی فراہمی نسبتاً مستحکم تھی اور قیمتیں بھی قابو میں تھیں، جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں تیزی سے جاری تھیں اور معیشت ترقی کر رہی تھی۔ تاہم موجودہ صورتحال نے اس توازن کو بگاڑ دیا ہے اور عالمی منڈی میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اب وہ حالات دوبارہ بحال کرنا آسان نہیں رہے۔





