Bharat Express DD Free Dish

Middle East Crisis

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر مختصر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور ایران کو "فوراً فائرنگ بند" کر دینی چاہیے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔

واقعے کے بعد کویت میں بھارتی سفارت خانے نے وہاں مقیم بھارتی شہریوں کے لیے ایڈوائزری بھی جاری کی ہے۔ سفارت خانے نے تمام بھارتیوں کو چوکس رہنے، مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نئی دہلی میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران پٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 7.35 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے بعد دارالحکومت میں پٹرول کی قیمت 94.77 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 102.12 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ اس عرصے کے دوران حکومت کی جانب سے چار مختلف مراحل میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔

ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں مختلف محاذوں پر جاری ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایسی کسی بھی خلاف ورزی کے نتائج کی ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر عائد ہوگی۔

ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کی جانب سے پیر کی صبح کویت میں موجود امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ اس واقعے کے فوراً بعد سعودی عرب نے بھی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایران کے بار بار اور اشتعال انگیز حملوں کی شدید مذمت کی۔

نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق عراقی شہری محمد باقر سعد داؤد الساعدی پر الزام ہے کہ وہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب یعنی اسلامک ریولوشنری گارڈ کور سے تربیت یافتہ تھا اور اس نے 2020 میں ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے یہ منصوبہ بنایا۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے 28 فروری کو شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد اب تک کم از کم 24 ریپر ڈرون مار گرائے یا تباہ کر دیے ہیں۔ ان ڈرونز کی مجموعی مالیت تقریباً ایک ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ اس پیش رفت کو بھارت کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ بھارت نے حال ہی میں امریکہ سے 31 ایم کیو-9بی پریڈیٹر ڈرون خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔

جنگی کشیدگی کے باعث ایرانی کرنسی ریال پر بھی شدید دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔ ہفتہ کے روز تہران کی اوپن مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کے مقابلے ایرانی ریال کی قدر تقریباً 18 لاکھ ریال تک گر گئی، جو اس ماہ کی کم ترین سطح کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی کم نہ ہوئی تو ایران اور عالمی معیشت دونوں پر اس کے مزید سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

یونیسیف کی تازہ رپورٹ کے مطابق مسلسل حملوں، بے گھری، خوف اور غیر یقینی صورتحال کے باعث تقریباً سات لاکھ ستر ہزار بچے ذہنی تناؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے اثرات مستقبل میں بھی ان کی زندگیوں پر نمایاں طور پر پڑ سکتے ہیں۔

بھارتی ریزرو بینک (آر بی آئی) کے گورنر سنجے ملہوترا نے مزید کہا کہ اگر موجودہ عالمی بحران میں شدت آتی ہے اور حالات مزید خراب ہوتے ہیں تو حکومت کے لیے ایندھن کی قیمتوں کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ ان کے مطابق اگر کشیدگی لمبے عرصے تک برقرار رہی تو تیل کمپنیاں جلد ہی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔