Bharat Express DD Free Dish

Middle East Crisis

وزیر اعظم مودی نے اتوار 10 مئی 2026 کو حیدرآباد میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”حب الوطنی صرف سرحد پر لڑنے کا نام نہیں، بلکہ مشکل وقت میں ملک کی معیشت کو سہارا دینا بھی قوم پرستی کا اہم حصہ ہے“۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملک کے مفاد میں ایندھن کی بچت کریں اور سونے کی خریداری محدود کریں تاکہ بھارت پر بڑھتے درآمدی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

پدم ایوارڈ یافتہ صنعت کار ششی سونی نے کہا کہ دنیا بھر میں بدلتے حالات، جنگوں، معاشی غیر یقینی اور قدرتی آفات کے تناظر میں بھارت کو مضبوط اور خود کفیل بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعظم مودی نے عوام سے جو اپیل کی ہے، اس کا مقصد لوگوں میں گھبراہٹ پیدا کرنا نہیں بلکہ اجتماعی شعور بیدار کرنا ہے تاکہ اگر مستقبل میں کوئی بڑا بحران پیدا ہو تو ملک اس کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکے۔

فاروق عبداللہ نے کہا کہ صرف آن لائن نظام یا وقتی اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ حکومت کو مضبوط معاشی حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر جاری تنازعات کا براہ راست اثر بھارت کی معیشت، تجارت اور عوامی زندگی پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی بند نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا کہ ”ہم جلد اپنی جیت کا جشن منائیں گے اور وہ تمام پابندیاں اور دباؤ ختم ہو جائیں گے جو برسوں سے ہمارے ملک پر مسلط ہیں“۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اپنی معیشت کو دوبارہ مستحکم کرنے کے لیے مختلف شعبوں میں اصلاحات کر رہا ہے اور قومی سطح پر خود انحصاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ڈیل کا ابتدائی خاکہ بتایا گیا ہے، لیکن حتمی فیصلہ مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں ایران کی پیشکش کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران نے اب تک اپنی کارروائیوں کی ’’کم قیمت‘‘ چکائی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ دوبارہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے، تو انہوں نے براہ راست جواب دینے سے گریز کیا، تاہم اشارہ دیا کہ یہ آپشن اب بھی میز پر موجود ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق اس تجویز کا بنیادی مقصد جاری مذاکرات میں پیدا ہونے والے تعطل کو ختم کرنا ہے۔ ساتھ ہی یہ اقدام ایرانی قیادت کے اندر جوہری رعایتوں کے دائرہ کار پر جاری اختلافات کو وقتی طور پر نظرانداز کرنے کی کوشش بھی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران نے امریکی وفد سے ملاقات سے بھی انکار کر دیا، جس میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔ یہ وفد مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد پہنچنے والا تھا، لیکن ایران کے انکار کے بعد یہ ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی خام تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث نہ صرف بحری سلامتی بلکہ عالمی توانائی سپلائی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بارودی سرنگوں کی مکمل صفائی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، جس سے عالمی توانائی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

وزارت خارجہ میں خلیجی امور کے اضافی سکریٹری عاصم آر مہاجن نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرون ملک مقیم بھارتی برادری کی سلامتی اور فلاح حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اسی مقصد کے تحت ایک خصوصی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، جہاں 24 گھنٹے ہیلپ لائن خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔

یہ تمام واقعات ایک ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب خطے میں سفارتی کوششیں جاری ہیں اور جنگ بندی کی مدت بڑھائی گئی ہے۔ تاہم امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی برقرار رکھنے کے فیصلے کو تہران ’’حملے کے مترادف‘‘ قرار دے رہا ہے، جس کے باعث کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔