Bharat Express DD Free Dish

Middle East Crisis

اسلام آباد میں جاری بات چیت میں پیش رفت کے باوجود اختلافات برقرار۔ ایرانی صدر نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران یہ بات کہی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال اور سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے بعد ایک نازک جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لیے اسلام آباد میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔ امریکی حکام اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کسی بھی بیرونی حمایت سے مذاکرات یا میدانِ عمل میں طاقت کا توازن متاثر نہ ہو۔ 

واشنگٹن کی بنیادی شرط یہ تھی کہ تہران واضح طور پر اس بات کی ضمانت دے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کے لیے ضروری وسائل تیار کرے گا۔ وینس کے مطابق امریکہ نے انتہائی لچکدار رویہ اختیار کیا، لیکن اس کے باوجود فریقین کے درمیان کوئی قابلِ قبول حل سامنے نہیں آ سکا۔

اطلاعات کے مطابق یہ مذاکرات رات گئے تک جاری رہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فریقین کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچنے کی سنجیدہ کوشش کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مرحلہ ممکنہ طور پر اس دور کے مذاکرات کا فیصلہ کن موقع ثابت ہو سکتا ہے۔

وزارت پیٹرولیم کے مطابق مارچ کے آغاز سے اب تک یہ نواں بھارتی جہاز ہے جو اس حساس راستے سے کامیابی کے ساتھ نکلنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس سے قبل کئی جہازوں کو انتظار کرنا پڑا تھا، تاہم حالات میں جزوی بہتری کے بعد اب رفتہ رفتہ نقل و حمل بحال ہو رہی ہے۔

ایرانی صدر نے سخت لہجے میں کہا ہے کہ ’’صہیونی حکومت کی جانب سے لبنان پر نئے حملے سیزفائر کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ ایسے اقدامات مذاکرات کو بے معنی بنا دیتے ہیں۔ ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں۔ ایران اپنے لبنانی بھائیوں اور بہنوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔‘‘

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارت خارجہ نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب ایران اپنے حملوں کی مکمل ذمہ داری قبول کرے، نقصانات کی تلافی کرے اور سمندری سلامتی کو مکمل طور پر بحال کرے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان سیزفائر کے لیے جن 10 نکات پر اتفاق ہوا تھا، ان میں باہمی عدم جارحیت کی ضمانت، ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا، آبنائے ہرمز میں محفوظ راستہ فراہم کرنا، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ اور امریکی افواج کا خطے سے انخلا شامل ہیں۔

ایران نے اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حزب اللہ پر بڑھتے ہوئے حملوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، تہران نے آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روک دی ہے، جس سے عالمی توانائی سپلائی پر سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فضائی حملوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر کے مطابق، یہ جنگ بندی دو طرفہ ہے اور اس کا مقصد مستقل امن کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ 10 نکاتی تجویز کو ایک قابل عمل بنیاد سمجھا جا رہا ہے، جس پر مزید بات چیت کی جا سکتی ہے۔