Bharat Express DD Free Dish

Middle East Crisis

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے موجودہ صورت حال پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’حالیہ جنگ بندی کے نتیجے میں عالمی سطح پراطمینان کی فضا پیدا ہوئی ہے، بالخصوص آبنائے ہرمزکے دوبارہ کھلنے اور کشیدگی میں کمی کے باعث، عالمی توانائی کی فراہمی بحال ہوئی ہے اور بھارت سمیت کئی ممالک کی معیشتوں پر پڑنے والے منفی اثرات میں کمی آئی ہے۔

ایران کے نائب وزیر کھیل علی رضا رحیمی نے عوام، طلبہ، فنکاروں اور کھلاڑیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ پاور پلانٹس کے گرد انسانی زنجیریں بنا کر ملک کے اہم اثاثوں کا تحفظ کریں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا ’’یہ ہمارے وسائل اور ہماری ملکیت ہیں‘‘ اور عوام سے ان کی حفاظت کے لیے آگے آنے کی اپیل کی تھی۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر پائلٹس کے لیے بعض قوانین میں عارضی نرمی دی ہے۔ بین الاقوامی پروازوں کو طویل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں، جس کی وجہ سے پائلٹس کے فلائٹ ڈیوٹی ٹائم میں عارضی اضافہ کیا گیا ہے۔

مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اب تک ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد ایرانی عوام نے ملک کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کی تیاری ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ایران کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

مشرق وسطیٰ کے بحران کے درمیان، پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے ایک بڑا فیصلہ لیا ہے، جس میں مائیگرنٹ مزدوروں کے لئے 5 کلوگرام کے ایف ٹی ایل گیس سلینڈرکی یومیہ فراہمی کو دوگنا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایران نے حالیہ فضائی جھڑپ کے دوران امریکہ کے دو جنگی طیارے ایف 15 ای اور اے 10 کو مار گرایا تھا۔ اس کارروائی میں ایف 15 ای طیارے کے دو عملے کے ارکان میں سے ایک کو پہلے ہی امریکی اسپیشل فورسز نے ریسکیو کر لیا تھا، جبکہ دوسرا اہلکار لاپتہ ہو گیا تھا۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے جوڑنے والا ایک اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے کی بندش عالمی معیشت پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے، خاص طور پر توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔

چین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر کشیدگی کم نہ کی گئی تو یہ صورتحال ایک بڑے انسانی اور معاشی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ بیجنگ نے ایک بار پھر تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارتی بات چیت کے ذریعے امن کی راہ اختیار کریں۔

وزارت پیٹرولیم کے سکریٹری ڈاکٹر نیرج متل نے تمام ریاستوں کے چیف سیکریٹریز کو خط لکھ کر کہا ہے کہ غلط معلومات کے باعث کئی علاقوں میں لوگ غیر ضروری طور پر گیس سلنڈر خرید رہے ہیں، جس سے سپلائی چین پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومتیں فوری طور پر عوام کو درست معلومات فراہم کریں اور افواہوں کو روکنے کے لیے فعال کردار ادا کریں۔

رپورٹس کے مطابق روس مکمل جنگ بندی کے بجائے محدود مدت کے لیے سیزفائر چاہتا ہے، تاکہ انخلا کے عمل کو بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کیا جا سکے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ میں 400 سے 700 کے درمیان روسی کارکن کام کر رہے تھے، جن میں سے کئی افراد کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی عملے کو مرحلہ وار نکالنے کی تیاری جاری ہے۔