مشرق وسطیٰ میں جنگ کو ایک ماہ سے زیادہ کا وقت ہوگیا ہے۔ اس کا اثرایشیائی ممالک میں ایل پی جی اورپٹرول-ڈیژل کی فراہمی پربھی خوب دیکھنے کومل رہی ہے۔ حالانکہ ہرملک کی حکومت اس سے نمٹنے کی کوشش کررہی ہے۔ اسی درمیان ہندوستان کی مرکزی حکومت نے مائیگرنٹ مزدوروں کوبڑی راحت دی ہے۔ پٹرولیم اورنیچرل گیس وزارت نے بڑا فیصلہ لیتے ہوئے مائیگرنٹ مزدوروں کے لئے پانچ کلوایف ٹی ایل گیس سلینڈرکی روزانہ فراہمی دوگنی کرنے کا حکم دیا ہے۔
محکمہ کے سکریٹری ڈاکٹرنیرج متل نے تمام ریاستوں کوایک خط بھیجا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومتیں اوایم سی کی مدد سے محکمہ سیول سپلائی کے ذریعہ اس سپلائی کویقینی بنائیں، تاکہ ضرورت مندوں تک گیس وقت پرپہنچ سکے۔
ہندوستانی بحری جہازوں سے متعلق آئی بڑی جانکاری
واضح رہے کہ ایران اوراسرائیل کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے آبنائے ہرمزمیں پھنسے ہوئے ہندوستانی بحری جہازوں کی صورتحال بہترہورہی ہے۔ بھارت میں اب تک سات ایل پی جی ٹینکرزآ چکے ہیں، جن میں شیوالک، نندا دیوی، پائن گیس، جگ وسنت، بی ڈبلیوٹی وائی آر، ڈبلیوای ایل ایم ورگرین سانوری شامل ہیں۔ یہ جہاز تقریباً 6.5 لاکھ ٹن ایل جی پی لے کرآئے ہیں۔
اسرائیل-امریکہ اورایران کے درمیان کشیدگی سے ایل پی جی کی قلت
ایران اوراسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث ہندوستان میں ایل پی جی کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ ہندوستان اپنی ایل پی جی ضروریات کا90-85 فیصد درآمد کرتا ہے، جس میں سے زیادہ تر آبنائے ہرمزسے گزرتا ہے۔ اس راستے پرکشیدگی نے ایل پی جی کی سپلائی کومتاثرکیا ہے۔ تاہم حکومت نے صورتحال کوسنبھالنے کے لئے اقدامات کئے ہیں۔ گھریلوایل پی جی کی پیداوارمیں 36 فیصد اضافہ ہوا ہے اوردیگرممالک سے درآمدات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ روزانہ 50 لاکھ ایل پی جی سلینڈرکی فراہمی ہورہی ہے اورسپلائی مضبوط ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

