نئی دہلی: امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد مغربی ایشیا جانے والی 10 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔ یہ جانکاری مرکزی وزارت شہری ہوا بازی کے ایک سینئر افسر نے منگل کو دی۔ وزارت شہری ہوا بازی کے جوائنٹ سکریٹری اسنگبا چُبا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جنگ سے پہلے بھارتی ایئرلائنز روزانہ تقریباً 300 سے 350 پروازیں مغربی ایشیا کے لیے چلاتی تھیں، جو اب کم ہو کر صرف 80 سے 90 رہ گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
فضائی آپریشن جاری، کرایوں پر قابو
افسر نے کہا کہ چیلنجز کے باوجود بھارتی ایئرلائنز اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں اور کارگو نقل و حمل بھی متاثر نہیں ہوئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود حکومت نے گھریلو فضائی کرایوں میں اضافہ نہ ہونے کو یقینی بنایا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر پائلٹس کے لیے بعض قوانین میں عارضی نرمی دی ہے۔ بین الاقوامی پروازوں کو طویل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں، جس کی وجہ سے پائلٹس کے فلائٹ ڈیوٹی ٹائم میں عارضی اضافہ کیا گیا ہے۔
حفاظتی اقدامات برقرار
حکام کے مطابق، فضائی حدود بند ہونے کی وجہ سے پروازوں کا دورانیہ بڑھ گیا ہے، جس سے ایئرلائنز کو مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ تاہم تھکن سے بچاؤ اور پروازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پائلٹس کے آرام کے اصول برقرار رکھے گئے ہیں، جن کے تحت اب 48 گھنٹے کا مسلسل آرام لازمی ہے، جو پہلے 36 گھنٹے تھا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ فضائی خدمات کو محفوظ اور مستحکم رکھا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
