Urdu Conclave 2026

Aviation Crisis

یہ مجوزہ پیکیج دراصل حکومت کے اس بڑے فریم ورک کا حصہ ہے، جسے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے معاشی اثرات کو کم کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور دیگر جغرافیائی سیاسی عوامل نے ایوی ایشن جیسے حساس شعبے پر دباؤ بڑھا دیا ہے،

مغربی ایشیا میں جاری تنازع نے ہوا بازی کے شعبے کو متاثر کیا ہے اور آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں 15 سے 20 فیصد کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ صنعت کو مجموعی طور پر 18 ہزار کروڑ روپے کے خالص نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ انکشاف پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PHDCCI) کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر پائلٹس کے لیے بعض قوانین میں عارضی نرمی دی ہے۔ بین الاقوامی پروازوں کو طویل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں، جس کی وجہ سے پائلٹس کے فلائٹ ڈیوٹی ٹائم میں عارضی اضافہ کیا گیا ہے۔

اگرچہ مغربی ایشیا کی صورتحال سے پروازوں پر اثر پڑا ہے، اس کے باوجود اس دوران بڑی تعداد میں مسافروں نے فضائی سفر کیا۔ وزیر کے مطابق کشیدگی کے عرصے میں بھی تقریباً 2,19,780 مسافروں نے ہوائی سفر کیا۔ وزیر نے بتایا کہ بھارت کا فضائی نگران ادارہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) اور شہری ہوا بازی کی وزارت متاثرہ علاقوں کے حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ صورتحال پر نظر رکھی جا سکے۔