Bharat Express DD Free Dish

Mallikarjun Kharge

کانگریس کو امید ہے کہ ان لیڈران کی موجودگی اور عوامی رابطہ مہم پارٹی کو دوسرے مرحلے میں مضبوطی فراہم کرے گی۔ قابل ذکر ہے کہ بہار میں اسمبلی انتخاب 2025 کے دوسرے مرحلے کے لیے 11 نومبر کو ووٹنگ ہوگی اور 14 نومبر کو ووٹوں کی گنتی کی جائے گی۔ اسی کے ساتھ انتخابی نتائج بھی سامنے آئیں گے۔

بھارت کی سابق وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کی برسی کے موقع پر کانگریس رہنماؤں راہل گاندھی، سونیا گاندھی اور پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے نے جمعہ کے روز دہلی کے ’شکتی ستھل‘ پر انہیں عقیدت کے پھول نذر کیے۔ اس موقع پر ملک کی سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی اندرا گاندھی کو یاد کیا، جنہوں نے قوم کی یکجہتی اور خودمختاری کے لیے اپنی جان قربان کی۔

پی ایم  نریندر مودی نے ایکس  پر لکھا: میں نے کھڑگے جی سے بات کی اور ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔ ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں اور ان کی لمبی عمر کی دعا  کرتا ہوں۔

بھگدڑ شام تقریباً ساڑھے سات بجے اس وقت ہوئی جب وجے اپنے حامیوں سے خطاب کر رہے تھے۔ دوپہر سے ہی جلسہ گاہ میں ہجوم جمع ہو رہا تھا۔ جب کچھ لوگ بے ہوش ہو کر گرنے لگے تو افراتفری مچ گئی اور بھگدڑ پھیل گئی۔وجے نے صورتحال خراب ہوتے ہی اپنی تقریر روک دی

اکھلیش یادو نے کہا کہ اتر پردیش میں ضمنی انتخابات کے دوران ووٹوں کی ’ڈکیتی‘ ہوئی اور پولیس نے اس میں مدد کی۔ ہمارے پاس اس کے لیے حلف نامے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو 18 ہزار حلف نامے دیے ہیں۔ اگر الیکشن کمیشن ایک پر بھی کارروائی کرتا ہے تو ایک بھی ووٹ نہیں چھوٹے گا۔

وزیر اعظم کو قومی دن پر ملک میں اتحاد، بھائی چارے اور ہم آہنگی کی بات کرنی چاہیے، نہ کہ سیاسی مخالفین پر الزامات کی بوچھار۔ سپل نے کہا:آئین نے وزیر اعظم کو ملک کو جوڑنے کی ذمہ داری دی ہے، مگر گزشتہ گیارہ سالوں میں یہ کردار نظر نہیں آیا۔

اپوزیشن کی آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کے حوالے سے یہ میٹنگ انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ سب کی نظریں اس پر لگی ہوئی ہیں کہ اپوزیشن کوئی ٹھوس قدم اٹھائے گی یا یہ صرف ایک رسمی بحث ہی رہ جائے گی۔

آپریشن سندورپربحث کے دوران پارلیمنٹ میں ایک لمحہ ایسا آیا، جب جے پی نڈا کو معافی مانگنی پڑی۔ سینئر رکن پارلیمنٹ اور کانگریس صدرملیکا ارجن کھڑگے کے بولنے کے بعد جے پی نڈا بولنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ وہ وزیراعظم مودی کے لئے کھڑگے کے استعمال کردہ الفاظ پرسوال اٹھا رہے تھے۔ پھر انہوں نے ایسی بات کہہ دی، جس سے ایوان میں ہنگامہ مچ ہوگیا۔

کرناٹک کے نائب وزیرِاعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کانگریس صدر کو مبارکباد دیتے ہوئے انھیں ’’کرناٹک کا فخر‘‘ قرار دیا۔

خط مںک کہا گاا ہے کہ پچھلے پانچ سالوں سے جموں و کشمر کے لوگ مسلسل مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ مطالبہ نہ صرف جائز ہے بلکہ ان کے آئی ر اور جمہوری حقوق پر بھی مبنی ہے۔ راہل گاندھی اور کھڑگے نے وزیر اعظم کے پہلے بیانات کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ واپس کرنے کا یقین دلایا تھا۔