Bharat Express DD Free Dish

Maharashtra Politics

بی ایم سی انتخابات کے نتائج آتے ہی ملک کی اقتصادی راجدھانی ممبئی میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت نہ ملنے کے باعث جوڑ توڑ کی سیاست نے زور پکڑ لیا ہے۔ ایسے ماحول میں مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے ایک بار پھر ’کنگ میکر‘ کے کردار میں سامنے آئے ہیں۔

ممبئی سمیت مہاراشٹر میں 29 میونسپل کارپوریشنوں کے لیے آج ووٹنگ ہوئی۔ انتخابی نتائج کا اعلان 16 جنوری کو کیا جائے گا۔ مختلف ایگزٹ پولز نے اس سے قبل پارٹی کی جیت اور شکست کا اندازہ لگایا ہے۔

تمام ایگزٹ پولز کے باوجود حتمی فیصلہ جمعہ کو ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی سامنے آئے گا، جس سے یہ طے ہوگا کہ ممبئی کی سیاست میں کس اتحاد کا پلڑا بھاری رہا۔

مہاراشٹر کی سیاست کے لیے کل کا دن انتہائی اہم ثابت ہونے والا ہے، کیونکہ ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) سمیت ریاست کی 29 میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات کی ووٹوں کی گنتی صبح 10 بجے سے شروع ہوگی۔

مہاراشٹر میں طویل انتظار کے بعد بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ جمعرات کو مکمل ہو گیا۔ ریاست کی سب سے بڑی بلدیہ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) سمیت مجموعی طور پر 29 میونسپل کارپوریشنوں میں ووٹنگ کرائی گئی، جس میں رائے دہندگان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے اس سے قبل کہا تھا کہ لاڈکی بہن اسکیم انتخابی پابندیوں سے آزاد ہے اور خواتین کو ان کا حق ملتا رہے گا۔ وہیں، کانگریس نے واضح کیا کہ وہ اسکیم کی مخالف نہیں ہے، لیکن انتخابات سے قبل ایڈوانس ادائیگی کو مناسب نہیں سمجھتی۔

ممبئی بی ایم سی انتخابات کے مدنظر تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے امیدوار میدان میں اتار دیے ہیں اور زور و شور سے انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ ٹھاکرے برادران مراٹھی اسمتا کے مسئلے کو آگے رکھتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ بی ایم سی کا اگلا میئر مراٹھی ہوگا۔

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ نے پارلیمان میں اپنے ایک پرانے اقدام کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پارلیمان میں کھڑے ہو کر کہا تھا کہ کچھ قوانین بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے آئین کے خلاف ہیں، اور انہوں نے اس قانون کی ایک نقل پھاڑ کر پارلیمان کے فرش پر پھینک دی تھی۔

مہاراشٹر کی بلدیاتی سیاست میں نظریات پس پشت، اقتدار کے لیے غیر متوقع اتحادوں پر سیاسی ہلچل، حالیہ نگر پریشد انتخابات میں اکولا ضلع کی اکوٹ نگر پریشد اور تھانے کی امبرناتھ نگر پریشد میں واضح اکثریت نہ ملنے کے بعد بی جے پی نے اقتدار کے حصول کے لیے کہیں کانگریس اور کہیں AIMIM سے اتحاد کر لیا۔

اجیت پوار سے سیٹوں کی تقسیم اور انتخابی نشان پربات نہیں بنی تو شرد پوار کی این سی پی مہا وکاس اگھاڑی کے پاس واپس لوٹ آئی ہے۔ اجیت پوارنے صرف 35 سیٹوں کی پیشکش کی تھی، جسے شرد پوار نے نامنظور کردیا۔ اس سے متعلق پنے کے شانتائی ہوٹل میں میٹنگ کی جارہی ہے۔