Bharat Express DD Free Dish

LPG Cylinder Crisis

ان معاہدوں میں بھارت میں 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔وزیر اعظم مودی اور یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد دو طرفہ اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری،

ملک میں بڑھتی ہوئی ایندھن کی کھپت، عالمی اقتصادی دباؤ اور سپلائی چین کے مسائل کے درمیان نریندر یادو کا یہ قدم ماحولیات کے تحفظ اور کفایت شعاری کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف پیٹرول اور ڈیزل کی بچت کا معاملہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل اور قومی ذمہ داری سے بھی جڑا ہوا مسئلہ ہے۔

ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے صدر جے پرکاش تیواری کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس نظام کی وجہ سے متعدد عملی دشواریاں سامنے آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق ہر صارف کے پاس موبائل فون موجود نہیں ہوتا،

اگر آپ شہری علاقے میں رہتے ہیں، تو آپ ہر 9 دن کے وقفے پر اپنے سلنڈر کو دوبارہ بھرنے کے اہل ہیں۔ اس کے برعکس، دیہی علاقوں کےیوزر کے لیے، یہ انتظار کا دورانیہ قدرے طویل ہے۔

حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ گھریلو ایل پی جی، پی این جی اور سی این جی کی 100 فیصد سپلائی برقرار رکھی جا رہی ہے۔ کمرشل ایل پی جی میں اسپتالوں، تعلیمی اداروں، فارما، اسٹیل اور زرعی شعبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

فوڈ ڈسٹری بیوشن اینڈ سول سپلائیزکے ڈائرکٹر، کنٹرولرجنرل چندرکانت ڈانگے کوموصول ہونے والی ایک مخصوص اطلاع کی بنیاد پریہ چھاپہ مارا گیا۔ یہ چھاپہ گنیش بیلّاٹے، مادھوری شندے اورپردیپ یادو کی قیادت میں ایک خصوصی ٹیم نے مارا تھا۔

سرکاری بیان کے مطابق ملک میں اب تک 4.05 لاکھ پی این جی (پائپڈ نیچرل گیس) کنکشنز فعال کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید 4.41 لاکھ صارفین نئے پی این جی کنکشن کے لیے درخواست دے چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پی این جی کے فروغ سے نہ صرف توانائی کی دستیابی میں بہتری آئے گی بلکہ شہری علاقوں میں سہولت بھی بڑھے گی۔

حکومت کے مطابق اب تک 1.16 لاکھ سے زائد چھاپے مارے جا چکے ہیں، جن کے دوران تقریباً 53 ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ پٹرولیم و قدرتی گیس کی وزارت (بھارت) کے مطابق اب زراعت، یورینیم، ہیوی واٹر، فارما اور پینٹ صنعتوں کو بھی گیس فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 8 اپریل کو ایک ہی دن میں 51.5 لاکھ سے زائد ایل پی جی سلنڈرز کی کامیاب ڈیلیوری کی گئی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سپلائی چین مستحکم ہے اور طلب کو مؤثر طریقے سے پورا کیا جا رہا ہے۔

وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باوجود ملک میں توانائی کی فراہمی کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے متعدد سطحوں پر تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ وزارت نے بتایا کہ مختلف متعلقہ وزارتیں اور ادارے باہمی تال میل کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ توانائی، سمندری نقل و حمل اور بیرون ملک مقیم بھارتی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔