نئی دہلی: مرکزی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں گھریلو ایل پی جی سلنڈرز کی سپلائی مکمل طور پر معمول کے مطابق جاری ہے اور صارفین کو کسی قسم کی قلت کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا۔ حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 8 اپریل کو ایک ہی دن میں 51.5 لاکھ سے زائد ایل پی جی سلنڈرز کی کامیاب ڈیلیوری کی گئی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سپلائی چین مستحکم ہے اور طلب کو مؤثر طریقے سے پورا کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق ایل پی جی کی بکنگ کے طریقہ کار میں بھی نمایاں تبدیلی آئی ہے اور اب تقریباً 98 فیصد صارفین آن لائن ذرائع کے ذریعے سلنڈرز کی بکنگ کر رہے ہیں۔ اس اقدام سے نہ صرف شفافیت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ صارفین کو سہولت بھی فراہم ہوئی ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک کے کسی بھی حصے میں کسی ڈسٹری بیوٹر کے پاس ایل پی جی ختم ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، جس سے سپلائی کے مستحکم ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایل پی جی کی غیر قانونی فروخت اور کالابازاری کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں تقریباً 92 فیصد ڈیلیوری ڈی اے سی (ڈیلیوری آتھنٹیکیشن کوڈ) کے ذریعے کی جا رہی ہے، جس سے صارفین کو درست اور محفوظ ڈیلیوری یقینی بنائی جا رہی ہے۔ اس نظام کے تحت ہر ڈیلیوری کی تصدیق کی جاتی ہے تاکہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کو روکا جا سکے۔ حکومت نے بتایا کہ پانچ کلوگرام والے چھوٹے ایل پی جی سلنڈرز کی مانگ میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ فی الحال اوسطاً 1.06 لاکھ پانچ کلو والے سلنڈرز روزانہ فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ فروری میں یہ تعداد تقریباً 77 ہزار تھی۔ 23 مارچ سے اب تک ایسے تقریباً 10 لاکھ سلنڈرز فروخت کیے جا چکے ہیں، جو صارفین کے بدلتے رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید برآں، سرکاری آئل کمپنیوں نے نگرانی کے عمل کو مزید سخت کر دیا ہے۔ اچانک معائنوں میں اضافہ کیا گیا ہے اور اب تک 1,870 سے زائد شوکاز نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ 189 ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے جبکہ 53 کو معطل بھی کیا گیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد سپلائی نظام میں شفافیت اور نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے۔ اس سلسلے میں انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ، ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ اور بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ کے اعلیٰ افسران پر مشتمل ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو ریاستی حکام اور صنعتی اداروں کے ساتھ مل کر کمرشل ایل پی جی کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔
حکومت کے مطابق 9 اپریل سے قبل بدھ کے روز تقریباً 6,711 میٹرک ٹن کمرشل ایل پی جی فروخت کی گئی، جو 19 کلوگرام کے 35 لاکھ سے زائد سلنڈرز کے برابر ہے۔ 14 مارچ سے اب تک مجموعی فروخت 99,796 میٹرک ٹن تک پہنچ چکی ہے، جو کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔ مزید یہ کہ 18,000 سے زائد پائپڈ نیچرل گیس صارفین نے ویب سائٹ کے ذریعے اپنے ایل پی جی کنکشن سرینڈر کر دیے ہیں۔ ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے نئے کنکشن کی سہولت فراہم کریں تاکہ طلب اور رسد کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔ حکومت نے یہ بھی بتایا کہ ملک کی تمام ریفائنریز پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور خام تیل کا مناسب ذخیرہ موجود ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی دستیابی بھی تسلی بخش سطح پر برقرار ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری خریداری اور ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں اور زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال کریں تاکہ سپلائی نظام پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



