Ministry of Petroleum and Natural Gas: ایتھنول ملاوٹ نہ ہوتی تو پٹرول 125 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتا تھا: مرکزی حکومت
وزارت نے کہا کہ یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ ایتھنول بلینڈنگ پروگرام بھارت کی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے میں کس قدر اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سے درآمدی خام تیل پر انحصار کم ہوتا ہے اور ایندھن پر ہونے والے اخراجات کا ایک بڑا حصہ ملکی معیشت کے اندر ہی گردش کرتا رہتا ہے۔حکومت کے مطابق ایتھنول ملاوٹ شدہ پٹرول پروگرام خوراک کی سلامتی، کسانوں کی فلاح اور توانائی سلامتی کے درمیان متوازن نظام قائم کرتا ہے۔
No LPG Shortage: ملک میں ایل پی جی سپلائی معمول پر، یومیہ 51 لاکھ سے زائد ایل پی جی سلنڈرز کی ہو رہی ڈیلیوری: مرکزی حکومت
حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 8 اپریل کو ایک ہی دن میں 51.5 لاکھ سے زائد ایل پی جی سلنڈرز کی کامیاب ڈیلیوری کی گئی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سپلائی چین مستحکم ہے اور طلب کو مؤثر طریقے سے پورا کیا جا رہا ہے۔
India Imports Petroleum And Strait Of Hormuz Significant: بھارت کس-کس ملک سے پیٹرولیم کرتا ہے درآمد، کیوں اتنا خاص ہے آبنائے ہرمز؟
بھارت اپنی ضرورت کے تقریباً 85 سے 89 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے۔ پہلے یہ تقریباً 55 فیصد آبنائے ہرمز کے راستے آتا تھا، تاہم اب یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 70 فیصد ہو گئی ہے۔ بھارت کی توانائی کی سپلائی محفوظ رہی ہے۔ بھارت کی یومیہ خام تیل کی کھپت تقریباً 55 لاکھ بیرل ہے اور یہ تقریباً 40 ممالک سے خام تیل درآمد کرتا ہے۔
Ministry Of Petroleum and Natural Gas: ملک بھر کے پٹرول پمپوں پر پٹرول-ڈیزل کی کوئی کمی نہیں، ذخیرہ اندوزی سے بچیں: وزارت پٹرولیم
مرکزی پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبراہٹ میں آ کر ایندھن ذخیرہ کرنے کی کوشش نہ کریں اور نہ ہی پٹرول یا ڈیزل کو کھلے یا غیر محفوظ کنٹینروں میں بھر کر رکھیں کیونکہ اس سے سنگین حفاظتی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔





