Bharat Express DD Free Dish

LPG Cylinder Crisis

آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے خلیج فارس میں واقع خارگ جزیرے پر ایران کے فوجی ٹھکانوں کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو اس علاقے کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

پٹرولیم اور قدرتی گیس وزارت میں مشترکہ سیکرٹری (مارکیٹنگ اور آئل ریفائنری) سجاتا شرما نے ایک بین وزارتی بریفنگ میں بتایا کہ 5 مارچ کے مقابلے میں ملک کی ریفائنریز اب تقریباً 30 فیصد زیادہ ایل پی جی پیدا کر رہی ہیں۔

کئی ڈیلرز نے کمپنی سے درخواست کی کہ یہ گیس بھارت کے شہریوں اور گھریلویوزر کو ترجیحی طور پر فراہم کی جائے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کمپنی نے فیصلہ کیا کہ دستیاب گیس کا زیادہ تر استعمال ملک میں ہی کیا جائے تاکہ عوام کو ریلیف ملے۔

اسپیکر اوم برلا نے اپوزیشن اراکین کو بار بار پرسکون ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سوالیہ وقفہ ایوان کا سب سے اہم حصہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران ارکان اپنے علاقوں کے مسائل اور قومی معاملات کو اٹھاتے ہیں،

ایران بحران کے درمیان بھارت میں ایل پی جی کی مانگ کو متوازن رکھنے کے لیے حکومت نے نئے قواعد نافذ کر دیے ہیں۔ اب شہروں اور دیہی علاقوں میں گیس سلنڈر کی بکنگ ایک مقررہ مدت کے بعد ہی کی جا سکے گی۔

جمعرات کے روز چھتیس گڑھ اسمبلی میں ایل پی جی سلنڈر کی قلت اور مبینہ بلیک مارکیٹنگ کے معاملے پر زبردست ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ کانگریس کے رکن اسمبلی انل بھیڑیا نے اس مسئلے پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ وزیر کیدار کشیپ نے کہا کہ ریاست میں گیس کی کوئی کمی نہیں ہے۔

بجٹ اجلاس کے دوران لوک سبھا میں راہل گاندھی نے ایل پی جی بحران کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے ‘ایپسٹین’ کا نام لیا، جس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ شروع ہو گیا۔ پیٹرولیم وزیر ہردیپ پوری نے گھبرانے سے منع کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں گیس کی سپلائی محفوظ ہے۔

سرکاری تیل کمپنیوں نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ اسپتالوں اور اسکولوں کو بھی ایل پی جی کی فراہمی جاری رکھی جا رہی ہے۔ تاہم وزارت نے یہ تسلیم کیا ہے کہ کمرشل ایل پی جی کی سپلائی بڑی حد تک درآمدات پر منحصر ہوتی ہے، اس لیے ہر شکایت کا فوری حل ممکن نہیں ہو سکتا۔

ملک کی معروف کمپنی ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ نے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریفائنری کے آپریشنز میں ضروری تبدیلیاں کی جا رہی ہیں تاکہ پیداوار کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ملکی بازار میں ایل پی جی کی سپلائی مستحکم اور قابل اعتماد رہے اور صارفین کو کسی قسم کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔