Bharat Express DD Free Dish

Lalu Prasad Yadav

نوکریوں کے لیے زمین کے معاملے میں الزام لگایا گیا ہے کہ بہار کے مختلف باشندوں کو 2004-2009 کے دوران ملازمتیں دی گئیں کیونکہ انہوں نے یا ان کے خاندان کے افراد نے اپنی زمین اس وقت کے وزیر ریلوے لالو پرساد یادو کے خاندان کے افراد کے نام منتقل کی تھی۔

اس سے پہلے، 29 مئی کے اپنے حکم میں، دہلی ہائی کورٹ نے لالو یادو کے خلاف ٹرائل کورٹ میں چل رہے مقدمے پر روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔ حالانکہ، ہائی کورٹ نے اس مقدمے کو منسوخ کرنے کی درخواست کو زیر التوا رکھتے ہوئے نوٹس جاری کیا، جس کی سماعت 12 اگست کو ہونی ہے۔ لالو یادو نے اس عبوری حکم کے خلاف سپریم کورٹ کا رخ کیا۔

 آئندہ بہاراسمبلی الیکشن سے پہلے راشٹریہ جنتا دل (آرجے ڈی) کے صدر لالو پرساد یادو نے بڑا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہرحال میں تیجسوی یادو ہی وزیراعلیٰ ہوں گے۔ دوسری جانب، عظیم اتحاد کی طرف سے ابھی کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

سینئر ایڈووکیٹ اور اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر (ایس پی پی) ڈی پی سنگھ، جو سی بی آئی کی نمائندگی کر رہے ہیں، نے راؤس ایونیو کورٹ میں اسپیشل جج وشال گوگن کے سامنے استدلال کیا کہ بہت سے امیدوار بہار کے غریب افراد تھے جن کے پاس لالو اور ان کے خاندان کے لیے دلچسپی کی زمین تھی۔

لالو یادو نے تیج پرتاپ کو یہ کہتے ہوئے نکال دیا تھا کہ ان کا طرز عمل اور برتاؤ ہماری خاندانی اقدار اور سماجی انصاف کے نظریے کے خلاف ہے۔

ان دنوں یادو خاندان گھریلو وجوہات کی وجہ سے خبروں میں ہے۔ 25 مئی کو، آر جے ڈی کے ایم ایل اے اور خاندان کے بڑے بیٹے تیج پرتاپ یادو کو پارٹی اور فیملی سے نکال دیا گیا تھا۔ آر جے ڈی سپریمو نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے یہ اعلان کیا تھا۔ تیج پرتاپ کو پارٹی سے چھ سال کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔

تیج پرتاپ یادو کی پوسٹ کو لے کر سوشل میڈیا پر تنازعہ بھی گہرا ہو گیا۔ بہار کے بی جے پی لیڈر نکھل آنند نے ایک پوسٹ لکھی اور تیج پرتاپ یادو کی ایشوریہ سے شادی سے متعلق سوال بھی پوچھے۔

ریلوے میں بھرتی کے لیے کوئی اشتہار یا کوئی پبلک نوٹس جاری نہیں کیا گیاتھا۔ تاہم، جو پٹنہ کے رہائشی تھے، انہیں ممبئی، جبل پور، کولکتہ، جے پور اور حاجی پور میں واقع مختلف زونل ریلوے میں متبادل کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔

جے ڈی یو کے ترجمان نیرج کمار نے کہا کہ فرق صاف ہے کہ اگر بہار میں ذات کا سروے نہیں ہوتا تو یہ کیسے معلوم ہوتا کہ تیجسوی یادو کے خاندان کے پاس پٹنہ میں 43 بیگھے سے زیادہ زمین ہے۔ جب ملک میں ذات پات کی مردم شماری ہوگی تو تیجسوی یادو نے سیاست کے کالے دھن کو کہاں کہاں انویسٹ کیا ہے، اس کا بھی پتہ چل جائے گا۔

مرکزی حکومت نے ذات پات کی مردم شماری کرانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ وہ مسئلہ ہے، جس پراپوزیشن مسلسل حکومت پرحملہ آوررہی ہے۔ اب مودی حکومت کے اعلان کے بعد لالویادو نے اس پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے یوپی اے کی سابقہ ​​کوششوں کا ذکرکیا ہے۔ ساتھ ہی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو ہم 30 سال پہلے سوچتے تھے، دوسرے کئی دہائیوں بعد اس پرعمل کرتے ہیں۔