Bharat Express DD Free Dish

Keshav Prasad Maurya

یوپی کے ڈپٹی سی ایم  کیشو پرساد موریہ نے ایکس پر پوسٹ کیا اور لکھا - "پروفیسر رام گوپال یادو اور ان کا پورا خاندان خانہ کعبہ  کو پسندکرتا ہے، انہیں ایودھیا کاشی نہیں بھاتا۔ اسی لیے یہ خاندان بار بار بھگوان رام اور رام کے بھکتوں کی توہین کرتا ہے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ ایس پی سے استعفیٰ دینے کے بعد سوامی پرساد موریہ نے اپنی الگ پارٹی بنائی ہے، جس کا نام راشٹریہ شوشیت سماج پارٹی ہے۔ اس پارٹی نے یوپی میں لوک سبھا انتخابات کے لیے بھی اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔

کانگریس پارٹی کی طرف سے جاری کردہ فہرست میں کشوری لال شرما کو امیٹھی سیٹ سے امیدوار بنایا گیا ہے، جب کہ راہل گاندھی اس بار اپنی دفعہ سونیا گاندھی کی رائے بریلی سیٹ سے الیکشن لڑیں گے۔

نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریہ نے ایک تصویر شیئر کی۔ اس تصویر میں کوئی اور نہیں بلکہ  سماجوادی پارٹی ایم ایل اے پوجا پال ہیں۔ 2022 میں اسمبلی انتخابات سے ٹھیک پہلے سماج وادی پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔

اویسی نے یوپی میں ایک نیا محاذ تیار کرنے کی تیاری کردی ہے اور اس کا سیدھا نقصان  انڈیا اتحاد کو ہوگا، دراصل اسدالدین اویسی نے تیسرے محاذ میں پلوی پٹیل کے ساتھ ہی سوامی پرساد موریہ  کی پارٹی ،پیس پارٹی اور چندرشیکھر کی بھیم آرمی ، ان تمام کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ڈپٹی سی ایم کیشو پرساد موریہ نے کہا کہ ایس پی میں بھگدڑ مچ گئی ہے۔ سب لوگ بھاگ رہے ہیں۔ ہمارے 8 امیدوار اور 2 ایس پی امیدوار الیکشن جیت رہے ہیں۔ پی ایم مودی کی قیادت میں راجیہ سبھا میں کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم مودی کی قیادت میں ملک ترقی کر رہا ہے۔

نائب وزیر اعلی نے کہا کہ پیپر لیک ایس پی حکومت کا پیدا کردہ کینسر ہے جسے بی جے پی حکومت ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

شیو پال یادو نے طنز کرتے ہوئے کہا، ’’ہم سوشلسٹ چاہتے ہیں کہ آپ اتر پردیش کے تمام 75 اضلاع میں ہوائی اڈے بنائیں، لیکن اس سے پہلے آپ کوشامبی میں ہوائی پٹی بھی بنائیں‘‘۔

اتحاد کے بارے میں نائب وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ’’بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے کے لیے کسی کے لیے دروازے بند نہیں ہیں، لیکن یہ فیصلہ کیشو موریہ کا نہیں ہوسکتا، یہ فیصلہ قومی قیادت کا ہے۔‘‘

 سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے سربراہ اوم پرکاش راج بھر پر شیو پال نے کہا کہ پورا ملک انہیں جان چکا ہے اور اب ان کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ کوئی انہیں سنجیدگی سے نہیں لیتا۔