Bharat Express DD Free Dish

Karnataka

لواحقین فیکٹری انتظامیہ سے سخت ناراض ہیں، کیونکہ حادثے کے کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود فیکٹری مالکان کی جانب سے نہ تو کسی معاوضے کا اعلان کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی قسم کا اظہارِ افسوس سامنے آیا ہے۔

پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے اور میٹرو کے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی جا رہی ہے۔ ملزم کی شناخت 45 سالہ شخص کے طور پر ہوئی ہے، اور پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے نتائج کی بنیاد پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔

پولیس کے مطابق یہ حادثہ نیشنل ہائی وے-48 پر گورلاٹو کراس کے قریب رات تقریباً دو بجے پیش آیا۔ ایک بے قابو ٹرک ڈیوائیڈر توڑتے ہوئے دوسری سمت چلا گیا اور سامنے سے آتی بس سے ٹکرا گیا۔ اس حادثے میں ٹرک ڈرائیور کی بھی موت ہو گئی۔ بس میں آگ لگنے کے بعد کئی مسافر بس سے نکل کر جان بچانے میں کامیاب رہے۔

پولیس کے مطابق یہ حادثہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب تقریباً 12 بجے کے قریب پیش آیا۔ نجی سلیپر بس بنگلورو سے گوکرنہ جا رہی تھی، اسی دوران مخالف سمت سے آ رہے ٹرک نے زوردار ٹکر مار دی۔

مدراس ہائی کورٹ کے جج جی آر سوامی ناتھن کے خلاف مواخذے (امپیچمنٹ) کی کوشش پر 36 سابق ججوں نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ سابق ججوں نے اس اقدام کو عدلیہ کی آزادی پر حملہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس طرح کی کوششیں عدالتی خود مختاری کو کمزور کر سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ججوں پر دباؤ ڈالنے یا انہیں نشانہ بنانے کے ایسے اقدامات جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

کرناٹک کی سیاست میں ایک بار پھر لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ اور ریاستی کانگریس کے صدر ڈی کے شیوکمار کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر بی جے پی کے ریاستی صدر اور رکن اسمبلی بی وائی وجیندر نے جمعرات کو سخت جوابی حملہ کیا۔

کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر ڈی کے شیوکمار کے ایک جارحانہ بیان نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ نیشنل ہیرالڈ معاملے اور منریگا قانون کے نام میں تبدیلی کے خلاف کانگریس کے احتجاج کے دوران ڈی کے شیوکمار نے مرکزی حکومت کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت میں ہمت ہے تو کرنسی نوٹوں سے مہاتما گاندھی کی تصویر ہٹا کر دکھائے۔

کرناٹک میں کانگریس حکومت اس وقت شدید داخلی تنازعے اور سیاسی بحران کا شکار ہے۔ وزیر اعلیٰ سِدّھارمیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے درمیان جاری رسہ کشی نے حکومت کی گرفت کو کمزور کر دیا ہے۔ ایسے میں بی جے پی نے ریاست میں اپنا جارحانہ سیاسی پلان شروع کرتے ہوئے کسانوں کو منظم کرنے کی مہم تیز کر دی ہے۔ کسان 9 دسمبر سے بڑے پیمانے پر احتجاج کا آغاز کریں گے اور بیلگاوی واقع ’سُورن سَودھا‘ کا گھیراؤ کریں گے۔

وزیراعظم نریندر مودی 28 نومبر کو کرناٹک کے اڈوپی واقع شری کرشن مٹھ پہنچے ہیں، جہاں انہوں نے لکش کنٹھ گیتا پارایَن پروگرام میں حصہ لیا۔ اس پروگرام میں ایک لاکھ شرکاء شریمد بھگود گیتا کا اجتماعی پاٹھ کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی 28 نومبر کو کرناٹک اور گوا کے اہم دورے پر روانہ ہوں گے۔ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کے مطابق، وہ صبح تقریباً ساڑھے گیارہ بجے کرناٹک کے اُڈپی میں واقع مشہور شری کرشنا مٹھ کا دورہ کریں گے، جس کے بعد وہ شام تین بجکر پندرہ منٹ پر گوا پہنچیں گے جہاں وہ شری سمسٹھان گوکرن پرتگالی جیوتتم مٹھ کے 550 سالہ جشن میں شرکت کریں گے۔