Bharat Express DD Free Dish

Mahant arrested on rape charges in Karnataka: کرناٹک میں عصمت دری کے الزام میں مہنت گرفتار، متاثرہ نے کہا- گزشتہ پانچ سالوں میں کئی بار کیا گیا جنسی استحصال

شکایت میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ مہنت نے پھر متاثرہ کو ویڈیو کال پر اس سے بات کرنے پر مجبور کیا، جس میں اس نے اس سے اپنے کپڑے اتارنے اور اسے ‘خوش’ کرنے کو کہتا تھا۔

بلیا میں نابالغ لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری

ٹمکورو: تمکورو ضلع کے کنیگل تعلقہ میں ودیا چودیشوری پیٹھ کے مہنت بالمنجوناتھ مہاسوامی جی کو عصمت دری کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ایک 20 سالہ لڑکی نے اس کے خلاف تھانے میں شکایت درج کرائی تھی۔ متاثرہ نے الزام لگایا کہ مہنت نے پچھلے پانچ سالوں میں کئی بار اس کا جنسی استحصال کیا۔

15 سال کی عمر میں پہلی بار گئی تھی مٹھ

شکایت کے مطابق جب وہ 15 سال کی تھی تو وہ پہلی بار اپنے باپ کے ساتھ مٹھ گئی تی۔ وہ اپنی صحت کے مسائل کے علاج کے لیے وہاں گئی تھی، جس کے بعد اس نے ‘اشٹامنگلا پرسنم’ کا اہتمام کیا، لیکن مہنت نے فائدہ اٹھا کر مبینہ طور پر اس کے ساتھ جنسی زیادتی کا شکار بنایا۔

مہنت نے متاثرہ کو ویڈیو کال پر بات کرنے پر کیا مجبور

شکایت میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ مہنت نے پھر متاثرہ کو ویڈیو کال پر اس سے بات کرنے پر مجبور کیا، جس میں اس نے اس سے اپنے کپڑے اتارنے اور اسے ‘خوش’ کرنے کو کہتا تھا۔

متاثرہ کی شکایت پر کیس درج

ایک سینئر افسر نے بتایا کہ متاثرہ کی جانب سے موصول ہونے والی شکایت کی بنیاد پر ہم نے دفعہ 376 (ریپ)، 354 (عورت کی عزت کو مجروح کرنا) اور پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسول آفنس (POCSO) ایکٹ کے ساتھ ساتھ IT ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مہنت کو جمعرات کے روز گرفتار کیا گیا تھا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read