Bharat Express DD Free Dish

Karnataka

کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر ڈی کے شیوکمار کے ایک جارحانہ بیان نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ نیشنل ہیرالڈ معاملے اور منریگا قانون کے نام میں تبدیلی کے خلاف کانگریس کے احتجاج کے دوران ڈی کے شیوکمار نے مرکزی حکومت کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت میں ہمت ہے تو کرنسی نوٹوں سے مہاتما گاندھی کی تصویر ہٹا کر دکھائے۔

کرناٹک میں کانگریس حکومت اس وقت شدید داخلی تنازعے اور سیاسی بحران کا شکار ہے۔ وزیر اعلیٰ سِدّھارمیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے درمیان جاری رسہ کشی نے حکومت کی گرفت کو کمزور کر دیا ہے۔ ایسے میں بی جے پی نے ریاست میں اپنا جارحانہ سیاسی پلان شروع کرتے ہوئے کسانوں کو منظم کرنے کی مہم تیز کر دی ہے۔ کسان 9 دسمبر سے بڑے پیمانے پر احتجاج کا آغاز کریں گے اور بیلگاوی واقع ’سُورن سَودھا‘ کا گھیراؤ کریں گے۔

وزیراعظم نریندر مودی 28 نومبر کو کرناٹک کے اڈوپی واقع شری کرشن مٹھ پہنچے ہیں، جہاں انہوں نے لکش کنٹھ گیتا پارایَن پروگرام میں حصہ لیا۔ اس پروگرام میں ایک لاکھ شرکاء شریمد بھگود گیتا کا اجتماعی پاٹھ کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی 28 نومبر کو کرناٹک اور گوا کے اہم دورے پر روانہ ہوں گے۔ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کے مطابق، وہ صبح تقریباً ساڑھے گیارہ بجے کرناٹک کے اُڈپی میں واقع مشہور شری کرشنا مٹھ کا دورہ کریں گے، جس کے بعد وہ شام تین بجکر پندرہ منٹ پر گوا پہنچیں گے جہاں وہ شری سمسٹھان گوکرن پرتگالی جیوتتم مٹھ کے 550 سالہ جشن میں شرکت کریں گے۔

کرناٹک کے اڈوپی ضلع کی پولیس نے دو نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے جو کوچی شپ یارڈ سے متعلق حساس معلومات پاکستان کو واٹس ایپ کے ذریعے بھیج رہے تھے۔ گرفتار ہونے والے دونوں نوجوانوں کی شناخت روہت (29) اور سنتری (37) کے نام سے ہوئی ہے، جو سلطان پور، اتر پردیش کے رہائشی ہیں۔

واقعے کے بعد بنگلورو میٹرو کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ تمام میٹرو اسٹیشنوں پر اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے، جبکہ ڈاگ اسکواڈ اور بم ڈٹیکشن ٹیمیں مسلسل گشت کر رہی ہیں۔ مسافروں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ کسی مشکوک شے یا شخص کو دیکھنے پر فوراً اطلاع دیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز ہریانہ، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، کیرالا اور کرناٹک سمیت مختلف ریاستوں کے یوم قیام کے موقع پر اہلِ ریاست کو نیک خواہشات پیش کیں اور ریاست کی ترقی، خوشحالی و اتحاد کے لیے دعا کی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کے 127ویں ایڈیشن میں ہندوستانی کافی کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت کی تعریف کی۔ انہوں نے خاص طور پر کرناٹک کے چکمنگلور، کورگ اور ہاسن سمیت جنوبی ہند کے دیگر کافی پیدا کرنے والے علاقوں کے کسانوں اور مزدوروں کی کوششوں کو سراہا، جنہوں نے دنیا بھر میں ہندوستانی کافی کی پہچان بنائی ہے۔

پی ایم مودی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا: کرناٹک کے ہاسن میں پیش آیا حادثہ نہایت دل دہلا دینے والا ہے۔ اس دکھ کی گھڑی میں میری ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ فرقہ وارانہ نفرت اور مذہبی شدت پسندی سے متاثر ایک سنگین مجرمانہ اقدام ہے۔‘‘