Bharat Express DD Free Dish

Karnataka High Court

عدالت نے گرفتاری کو غیر قانونی قرار دینے کے ساتھ ہی پولیس سب انسپکٹر اور متعلقہ افسران کو اپنی جیب سے 3 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ معاملہ بنگلورو کے وائٹ فیلڈ پولیس اسٹیشن سے متعلق ہے۔

جسٹس ایم ناگ پرسنّا نے کہا کہ پولیس نے متعلقہ شخص کو تحقیقات کے لیے حاضر ہونے کا نوٹس جاری کیا تھا، لیکن اس سے پہلے کہ وہ تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے پیش ہوتا، پولیس نے اسے اس کے گھر سے گرفتار کر لیا۔

یہ فیصلہ گیمز کرافٹ ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ اور نردیشا نیٹ ورک پرائیویٹ لمیٹڈ کی درخواست پر سنایا گیا۔ درخواست گزاروں نے 11 نومبر 2025 کو درج ای سی آئی آر اور اس کے بعد ای ڈی کی جانب سے کی گئی تمام کارروائیوں کو چیلنج کیا تھا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر اشون ہیبار کے خلاف پہلا مقدمہ 12 اگست 2022 کو ایک جونیئر ریزیڈنٹ ڈاکٹر کی شکایت پر درج ہوا تھا، جبکہ دوسرا مقدمہ 19 جون 2025 کو ایک پوسٹ گریجویٹ طالبہ نے درج کرایا۔ دونوں مقدمات میں انہیں گرفتار کیا گیا، تاہم بعد میں عدالت سے ضمانت مل گئی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ڈاکٹر ہیبار نے اپنی بحالی کے لیے سیاسی شخصیات اور بعض غیر سرکاری تنظیموں کے سفارشی خطوط کا سہارا لیا۔ 

یہ ریمارکس جسٹس آر نٹراج نے عصمت دری کے ایک مقدمے میں 23 سالہ ملزم کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران دیے۔ عدالت نے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قانونی نظام میں سزا کا خوف پہلے جیسا مؤثر نہیں رہا،

یہ معاملہ 2016 میں پیش آنے والے ایک سنسنی خیز قتل سے جڑا ہے، جس میں بی جے پی کے ضلعی پنچایت رکن یوگیش گوڑا کو دھارواڑ میں ان کے اپنے جم کے اندر تیز دھار ہتھیاروں سے بے رحمی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کیس میں عدالت نے کلکرنی سمیت 17 افراد کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی اور ہر ایک پر 30 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔

ریاست کرناٹک کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر کرناٹک ہائی کورٹ نے باگے پلی اسمبلی حلقے سے منتخب کانگریس کے رکن اسمبلی ایس این سبا ریڈی کے انتخاب کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ بی جے پی امیدوار سی منی راجو کی جانب سے دائر انتخابی عرضی پر سنایا، جس میں نامزدگی فارم میں مبینہ بے ضابطگیوں، جائیداد چھپانے اور غلط حلف نامہ داخل کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے اعلان کیا کہ آر سی بی کے اہلکاروں کو گرفتار کیا جائے گا اور بھگدڑ کی عدالتی جانچ کا حکم دیا جائے گا۔

اس کیس میں ایک مسلم خاتون کی جائیداد کے تنازعہ پر بحث ہوئی، جہاں اس کی بہن کو بھائیوں کے مقابلے میں کم حصہ ملا۔ عدالت نے اسے خواتین کے درمیان امتیازی سلوک کی ایک مثال قرار دیا اور کہا کہ یونیفارم سول کوڈ اس طرح کے فرق کو ختم کر سکتا ہے۔

وکیل نے بتایا تھا کہ اداکار کو سلپڈ ڈسک کا مسئلہ ہے جس سے خون کی گردش میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے اور درشن کے لیے سرجری لازمی ہو گئی ہے، کیونکہ اِس کا علاج دوسرے طریقوں سے نہیں ہو سکتا۔