Bharat Express DD Free Dish

Joe Biden

جو بائیڈن کی بیماری کے بارے میں جاننے کے بعد دیگر امریکی رہنماؤں نے بھی ردعمل کا اظہار کیا۔

وزارت کے مطابق اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک 76,000 ٹن سے زیادہ فوجی سازوسامان 678 ٹرانسپورٹ طیاروں اور 129 بحری جہازوں کے ذریعے اسرائیل پہنچا ہے، جن میں سے زیادہ تر امریکہ سے آیا ہے۔

ٹرمپ نے تقریب ختم ہونے سے پہلے ہی کام کرنا شروع کر دیا اور ایک حکم نامے پر دستخط کر کے بائیڈن انتظامیہ کے کئی قوانین کو منسوخ کر دیا۔ یہ سب کچھ ان کے حامیوں کے سامنے ہوا، جو اسپورٹنگ ایرینا میں سارا دن اس کا انتظار کر رہے تھے۔

ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ افیشینسی کی ذمہ داری ارب پتی ایلون مسک کو سونپی گئی ہے۔ مسک کے کردار کے بارے میں خدشات ہیں کہ ان کے منصوبے سرکاری ملازمین کی ملازمتوں اور مفادات پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ AFGE نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبے کے تحت کی جانے والی کٹوتی ملازمین کی ملازمتوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

جوبائیڈن نے کہا کہ وہ عالمی بحران حل نہیں کر سکے۔غزہ میں جاری بحران کے حوالے سے امریکی صدر نے اس خیال کا اظہار کیا کہ ہم حماس کی جانب سے پکڑے گئے قیدیوں کے حوالے سے ڈیل کے قریب ہیں، جس کے بعد غزہ انکلیو میں جاری لڑائی رُک جائے گی۔

نومنتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ لاس ایجنلس میں آگ اب بھی بھڑک رہی ہے، نااہل سیاستدانوں کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ اس پر کیسے قابو پایا جائے۔

واشنگٹن میں محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ جنرل لائسنس امریکی عزم کی نشاندہی کرتا ہے کہ شام پر عائد پابندیاں "بنیادی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کی عوامی خدمات یا انسانی ہمدردی کی امداد کی فراہمی جیسی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہ بنیں۔

رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کانگریس کو بتایا کہ اس معاہدے کا مقصد ’اہم جنگی سازوسامان اور فضائی دفاعی صلاحیتوں کی دوبارہ فراہم کرکے اسرائیل کی طویل مدتی سلامتی کی حمایت کرنا ہے۔‘

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی اس کو  'غیر انسانی' قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوتن انسان نہیں ہیں۔ انہوں نے جان بوجھ کر حملے کے لیے کرسمس کے دن کا انتخاب کیا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ امریکہ نے اس معاملے پر مسلسل اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے ٹویٹر پر ایک پوسٹ میں کہا۔ ’’ہم اپنے خدشات کے بارے میں واضح اور مستقل رہے ہیں، اور ہم ان مسائل پر پاکستان کے ساتھ تعمیری طور پر بات چیت جاری رکھیں گے۔‘‘