قائم مقام امریکی صدر جو بائیڈن نے H-1B ویزا قوانین میں نرمی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے امریکی کمپنیوں کے لیے خصوصی مہارت کے حامل ملازمین کی خدمات حاصل کرنا آسان ہو جائے گا۔ جو بائیڈن کے اس فیصلے کے بعد F-1 اسٹوڈنٹ ویزا آسانی سے H-1B ویزا آسانی سے بدلا جاسکے گا۔ جوبائیڈن انتظامیہ نے یہ فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے سے ایک ماہ قبل لیا ہے۔
امریکی ڈی ایچ ایس یعنی ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے نئے قوانین کا اعلان کیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان نئے قوانین کے ذریعے کئی شعبوں میں کمپنیوں کے لیے خالی اسامیوں پر بھرتی کرنا آسان ہو جائے گا اور امریکی معیشت مضبوط ہو گی۔
پریس ریلیز میں کہا گیا، ‘ویزا کے نئے قوانین کمپنیوں کے لیے منظوری کے عمل کو ہموار کرتے ہوئے خصوصی مہارتوں کے حامل ملازمین کی خدمات حاصل کرنا آسان ہوجائےگا ۔
اس فیصلے سے زیادہ فائدہ کس کو ہوگا؟
مختلف شعبوں میں امریکی کمپنیوں میں غیر ملکی خصوصی مہارت رکھنے والے ملازمین کی بہت مانگ ہے۔ آئی ٹی کمپنیاں ہر سال ہندوستان اور چین جیسے ممالک سے ہزاروں ملازمین کو بھرتی کرتی ہیں۔جو بائیڈن انتظامیہ کا یہ فیصلہ ہندوستان کے ان لوگوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے جو امریکہ جا کر آئی ٹی کے شعبے میں کام کرنا چاہتے ہیں۔
F-1 اور H-1B ویزا کیا ہیں؟
F-1 ویزا امریکہ کی طرف سے ان طلباء کو جاری کیا جاتا ہے ،جو بیرونی ممالک سے تعلیم کے مقصد سے امریکہ جاتے ہیں۔ H-1B ویزا ایک غیر تارکین وطن ویزا ہے جو امریکہ کی طرف سے ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو دوسرے ملک سے امریکہ میں کام کرنے کے لئے جاتے ہیں۔ چونکہ امریکی آئی ٹی کمپنیوں میں ہندوستانی ملازمین کی بہت زیادہ مانگ ہے، لہذا H-1B ویزا حاصل کرنے والوں میں سب سے زیادہ ہندوستانی پروفیشنل افراد کی اکثریت ہے۔
امریکہ ہر سال اتنے زیادہ H-1B ویزے جاری کرتا ہے
USCIS یعنی ریاستہائے متحدہ کی شہریت اور امیگریشن سروسز کے ذریعے DHS قانونی طور پر ہر سال 65,000 H-B1 ویزا جاری کر سکتا ہے۔ ان میں 20,000 اضافی H-B1 ویزے بھی جاری کیےجاتے ہیں ،جو ان لوگوں کو دیئے جاتے ہیں جنہوں نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی ہے اور وہ وہاں نوکری کرنا چاہتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


