Bharat Express DD Free Dish

Israel Palestine Crisis

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد اسرائیل پر براہ راست جوابی کارروائی کا حکم دے دیا۔امریکی خبر رساں ادارے نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے یہ حکم ایرانی سیکیورٹی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں دیا۔

ایرانی میڈیا نے تہران میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کی کارروائی سے متعلق بعض تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق اسماعیل ہنیہ کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایران کے وقت کے مطابق 2 بجے ہلاک کیا گیا۔

اسرائیل کی جانب سے ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن کے اُس بیان پر جواب سامنے آیا ہے جس میں اسرائیل کے لیے چُھپی ہوئی دھمکی شامل تھی۔اسرائیلی وزیر خارجہ یسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ "ایردوآن ... صدام حسین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسرائیل پر حملے کی دھمکی دے رہے ہیں۔

حماس کے سینئر رہنما موسیٰ ابو مرزوق اور فتح گروپ کے رہنما محمد ال علولی سمیت دیگر 12 فلسطینی دھڑوں کے نمائندوں نے مذاکراتی عمل میں شرکت کی۔چینی وزیرِ خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ فلسطینی تنظیموں نے غزہ جنگ کے بعد عبوری قومی مصالحتی حکومت کے قیام پر اتفاق کیا ہے۔

عالمی عدالت نے مزید کہا کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی پالیسیاں اور طرز عمل ان علاقوں کے بڑے حصے کو ضم کرنے کے مترادف ہیں۔یہ بیان ایک غیر پابند ایڈوائزری رائے میں سامنے آیا ہے جسے ایک جج نے عدالت میں پڑھ کر سنایا۔

امریکہ کا اسرائیل سے کہنا ہے کہ ویسٹ بینک میں تشدد میں شامل لوگوں کی جوابدہی طے ہو اور ساتھ ہی تشدد کو روکنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ نئی پابندی فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں شامل اسرائیلیوں پر راست اثرکریں گے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر بے گھر فلسطینیوں کو غزہ سے فوری انخلا کا حکم دے دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صہیونی فوجی حملوں میں مزید 45 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔اسرائیلی ٹینک غزہ میں تین اطراف سے داخل ہوئے اور فورسز نے غزہ کے شمالی علاقوں پر بھی بمباری کی۔

اعلیٰ سطح کے ذرائع نے بتایا ہے کہ مصری جنرل انٹیلی جنس کے سربراہ عباس کامل کی قیادت میں مصری سیکورٹی وفد حماس اور اسرائیل کے بیچ نقطہ ہائے نظر کو قریب لانے کی کوشش کرے گا۔ اس کا مقصد جلد از جلد جنگ بندی کو ممکن بنانا ہے۔

اسرائیلی فوج نے الزام عائد کیا ہےکہ حماس اسپتال کی سہولیات کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کررہا ہے اور اس نے اسپتال کو ایک ٹنل کی شکل دی ہوئی ہے تاہم ابو سلمیہ اور اسپتال کے دیگر اسٹاف نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

اسرائیل اس وقت اپنے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے، ایک طرف غزہ میں جنگ بندی کے لیے اس پر شدید بین الاقوامی دباؤ ہے تو دوسری جانب حماس کی قید سے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیلی شہروں میں مسلسل احتجاج جاری ہے۔