Bharat Express DD Free Dish

Israel Palestine Conflict

بشنیل نے اس المناک واقعے کی ویڈیو کو ٹویچ پر لائیو اسٹریم کیا، لیکن بعد میں اسے ہٹا دیا گیا۔ فوٹیج میں مبینہ طور پر اسے اسرائیلی سفارت خانے کی طرف جاتے ہوئے اور خود پر لکوڈ ڈالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکہ نے 66 ڈبوں میں 38 ہزار افراد کےکھانے کے لیے تیار کھانا گرایا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ صرف شروعات ہے، وہ مستقبل میں بھی غزہ میں مقیم فلسطینیوں کی مدد کرتا رہے گا۔ یہ مشترکہ آپریشن تھا۔ اس میں اردنی فوج بھی شامل تھی۔

امریکہ نے اسرائیل پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ماہِ رمضان کے دوران مسلمانوں کو یروشلم میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں عبادت کرنے کی اجازت دے۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ ہم اسرائیل پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ ماضی کے طریقوں پر عمل کرتے ہوئے رمضان کے دوران پرامن عبادت گزاروں کو مسجد تک رسائی کی اجازت دے

غزہ کے اسپتال کے حکام نے ابتدائی طور پر شہر کے مغربی حصے میں النبوسی چوک پر ایک ہجوم پر اسرائیلی حملے کی اطلاع دی۔ عینی شاہدین نے بعد میں بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے اس وقت فائرنگ کی جب لوگ ٹرکوں سے آٹا اور ڈبہ بند سامان نکال رہے تھے۔اسرائیلی حکام نے تسلیم کیا کہ فوجیوں نے فائرنگ کی۔

محمد اشتیہ نے کہا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ اگلے مرحلے اور اس کے چیلنجوں کے لیے نئے حکومتی اور سیاسی انتظامات کی ضرورت ہے جو غزہ کی نئی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور فلسطینی اتحاد پر مبنی فلسطینی اتفاق رائے اور فلسطین کی سرزمین پر اتھارٹی کے اتحاد کی توسیع کی ضرورت ہے۔

غزہ شہر کے الشفاء ہسپتال میں محمود فتوح نامی 2 ماہ کا بچہ غذائی قلت کے باعث انتقال کر گیا ہے۔وفا نیوز ایجنسی کے مطابق بچے کی موت اس وقت ہوئی جب اس کے لیے دودھ اور بنیادی سامان نہ مل سکا۔

مڈل ایسٹ سے لیکر یورپ  تک  جنگ جاری ہے ۔ روس یوکرین کی جنگ ہو یا  حماس اسرائیل کی یا پھر حوثیوں کے خلاف بحر احمر میں جنگ ہو، ان تمام جنگوں میں امریکہ واحد ایسا ملک ہے جو ہر جگہ موجود ہے۔ اسرائیل حماس جنگ میں اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔

ادھر دوسری جانب اسرائیل نے ہفتے کی صبح غزہ کے سرحدی شہر رفح پر تازہ حملے کیے، جسے اقوام متحدہ نے ’مایوسی کا پریشر ککر‘ قرار دیا ہے۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب بین الاقوامی ثالث غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان فائر بندی کے لیے ایک معاہدے کی تیاری میں مصروف ہیں۔

پولیس کی حفاظت میں درجنوں اسرائیلی آباد کاروں نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسجد الاقصیٰ کے احاطے پر دھاوا بول دیا۔عینی شاہدین نے بتایا کہ وہ الگ الگ گروپس میں داخل ہوئے اور مسجد کے صحنوں میں ادھر سے ادھر گشت کرنے لگے۔مسجد اقصیٰ کے کمپاؤنڈ کا  چکرتقریباً روزمرہ کا واقعہ بن گیا ہے۔

اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ حماس ہر اُس سنجیدہ اور عملی اقدام کا خیر مقدم کرے گی جو قیدیوں کے تبادلے سمیت غزہ میں جنگ و محاصرے کے خاتمے اور انفراسٹرکچر کی دوبارہ بحالی کا باعث بنے۔ واضح رہے کہ پیرس میں امریکہ، اسرائیل، مصر اور قطر کے مذاکرات کار غزہ میں جنگ بندی اور صیہونی قیدیوں کی رہائی کے لئے کسی نتیجے تک پہنچے ہیں۔