Bharat Express DD Free Dish

Israel Palestine Conflict

حماس کے عسکری ونگ قاسم بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا کہ ہم دفاعی پہلوؤں پر اپنی تیاریوں کا اعادہ کرتے ہیں۔ زمین کے ذریعے دشمن کی کارروائی ہمیں نئے آپشنز کی طرف بڑھنے پر مجبور کرے گی۔ جس کی وجہ سے دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔

مرکزی وزیر راجیو چندر شیکھر نے کہا کہ ہماری حکومت کبھی کسی ہندوستانی کو پیچھے نہیں چھوڑے گی۔ ہماری حکومت اور وزیر اعظم ان کی حفاظت اور انہیں بحفاظت وطن واپس لانے کے لیے پرعزم ہیں۔

اسرائیل کی اندھادھند بمباری میں غزہ کے اندر معصوم بچوں کی ایک بڑی تعداد شہید ہوگئی ہے۔فلسطینی وزارت صحت سے ملی تفصیلات کے مطابق اسرائیل کے حملوں میں اب تک قریب  450 بچے شہید ہوچکے ہیں ۔فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر سے اسرائیلی بمباری کے دوران ہلاک ہونے والے 1,417 افراد میں 447 بچے اور 248 خواتین شامل ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے جہاں ایک طرف حماس کی کاروائی کو دہشت گردارنہ سرگرمیوں سے تعبیر کیا،اور حملہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی، تو وہیں دوسری جانب اسرائیل سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ساتھ کھڑے رہنے کی یقین دہانی کرائی ۔

یروشلم متنازعہ علاقوں کے مرکز میں ہے جس پر دونوں ممالک کے درمیان شروع سے ہی تعطل کا شکار ہے۔ اسرائیلی یہودیوں اور فلسطینی عربوں دونوں کی شناخت، ثقافت اور تاریخ یروشلم سے جڑی ہوئی ہے۔ دونوں اس پر دعویٰ کرتے ہیں۔

ایران نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ غزہ کا محاصرہ کر کے "نسل کشی" کی کوشش کر رہا ہے۔آج نیتن یاہو اور صیہونیوں کی طرف سے غزہ کے شہریوں کے خلاف جنگی جرائم کے تسلسل، محاصرہ کرنے، پانی اور بجلی منقطع کرنے اور ادویات اور خوراک کے داخلے سے انکار نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ صیہونی غزہ کے تمام لوگوں کی نسل کشی کے خواہاں ہیں۔

نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ’’حماس آئی ایس آئی ایس ہے اور جس طرح آئی ایس آئی ایس کو کچل دیا گیا تھا اسی طرح حماس کو بھی کچل دیا جائے گا‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس کے ساتھ وہی سلوک کیا جانا چاہیے جیسا داعش کے ساتھ کیا گیا تھا۔

 اسرائیل اورفلسطین میں جنگ کے درمیان اسرائیل نے شام  کی راجدھانی دمشق کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر حملہ کیا ہے۔ اس حملے سے ایران اورعراق تک میں ہنگامہ مچ گیا ہے۔

غزہ پٹی کے سب سے بڑے اسپتال الشفا کے تعمیر نو کے سرجن غسان ابو سیتا نے کہا کہ ان کے پاس 50 مریض آپریشن روم کے منتظر ہیں۔

ایم ایس او نے کہا کہ بات چیت کی ضرورت ہے اور حل پر دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ ایم ایس او کی جانب سے کہا گیا کہ اسلام نے کبھی بھی ایسے وحشیانہ اور غیر انسانی فعل کی اجازت نہیں دیتا ہے۔