Bharat Express DD Free Dish

Israel Hamas Attack

ایک ہفتے سے جاری شدید فضائی حملوں نے پوری غزہ کی پٹی کو تباہ کر دیا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت نے کہا کہ لڑائی شروع ہونے کے بعد سے اب تک 2,329 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد 2014 کی غزہ جنگ سے زیادہ ہے

حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ نے یہ بھی کہا کہ اس جنگ میں بوڑھوں، بچوں، خواتین اور نہتے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔ فلسطین کی سرزمین کم کر دی گئی، اس سے بڑا ظلم کیا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے فلسطینی عوام کو امن سے رہنے کی اجازت دینے کی بھی اپیل کی۔ میرواعظ نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جو کچھ ہو رہا ہے جموں و کشمیر کے لوگ بھی دیکھ رہے ہیں۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ایکس پر پوسٹ کیا، 'سعودی عرب کے وزیر خارجہ کے ساتھ حماس-اسرائیل تنازعہ سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔' خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق وزیر خارجہ نے جمعہ کو سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے بات کی۔

مولانا صدیق اللہ چودھری نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، جنگ سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اس کا حل بات چیت سے ہی نکلے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم غزہ کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم فلسطین کے ساتھ ہیں۔ انہیں جس چیز کی بھی ضرورت ہو - خون یا سامان - ہم اس کا بندوبست کریں گے۔ ہم انہیں سب کچھ دیں گے۔

ایئر انڈیا نے اسرائیل کے اقتصادی مرکز تل ابیب سے چلنے والی پروازوں کو 14 اکتوبر تک معطل کر دیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ عام طور پر ایئر انڈیا قومی دارالحکومت نئی دہلی سے تل ابیب کے لیے ہفتے میں پانچ پروازیں چلاتی ہے۔ یہ سروس پیر، منگل، جمعرات، ہفتہ اور اتوار کو چلتی ہے

ضلع حمیر پور سے خبریں آرہی ہیں کہ کچھ لوگوں نے فلسطین کی حمایت میں سوشل میڈیا پر پوسٹس کرکے سنسنی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے بعد پولیس نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے دو افراد کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا اور پھر بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک شخص کو نماز جمعہ کے بعد حراست میں لے لیا

اسرائیل اور فلسطین دونوں کے ساتھ ہندوستان کے خوشگوار تعلقات کا نتیجہ ہے کہ ہندوستان میں فلسطینی سفیر عدنان ابو الہیجہ نے کہا کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جو اسرائیل اور فلسطین دونوں کا ہی دوست ہے۔

اسرائیل کی جانب سے جاری حملہ میں اب تک حماس کے 1300 کارکنان جاں بحق ہوئے ہیں ۔ غزہ کی پٹی میں بمباری کی وجہ سے رات کو بھی دن کی طرح محسوس ہوتا ہے۔

اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے غزہ شہر کے اندرواقع اسکولوں میں عارضی طورپر مقیم فلسطینی شہریوں سے  یہ کہا گیا تھا کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندرغزہ خالی کردیں،مقررہ وقت اب ختم ہونے کو ہے اور اسرائیلی فوج کے ٹینک غزہ کے سرحدوں پر پہنچنا شروع ہوچکے ہیں۔

غزہ کی موجودہ صو رتحال پر نظر دوڑاتے ہیں تو وہاں کے اسکولوں کے احاطہ میں  عارضی طورپر مقیم شہریوں کی حالت اجیرن بن چکی ہے ۔ ہرگزرتے وقت کے ساتھ بچوں کی اموات سے متعلق جو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں اسے دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں