Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel War

امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے دنیا کے اہم سمندری راستوں میں سے ایک آبنائے ہرمز کو بند کر دیا اور اسے دوبارہ کھولنے کے لیے عالمی سطح پر ٹول وصول کرنے کی تجویز پیش کی۔ تاہم یہ تجویز عملی طور پر مشکل اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف سمجھی جا رہی ہے۔

اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی محدود نوعیت کی ہے اور اس کا اطلاق لبنان میں سرگرم تنظیم حزب اللہ پر نہیں ہوتا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق حزب اللہ ایک علیحدہ اور سنگین خطرہ ہے، جو اسرائیل کی شمالی سرحد پر مسلسل دباؤ ڈالے ہوئے ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں کہا، "ہم نے جنگ نہیں چاہی اور نہ ہی ہم اسے چاہتے ہیں، لیکن ہم کسی بھی صورت میں اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ہم اس تنازع میں شامل تمام فریقوں کو ایک ہی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔"

حزب اللہ کےلیڈر علی فیاض نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کسی بھی براہ راست بات چیت کو قبول نہیں کرے گا اور سب سے پہلے اسرائیل کو حملے بند کرنے اور اپنی فوج واپس بلانا ہوں گا۔

جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں قالیباف نے کہا کہ اسرائیل کی کارروائیاں نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہی ہیں بلکہ جاری سیزفائر معاہدے کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دو ہفتوں کے لیے طے پانے والی جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہونا چاہیے، تاہم اسرائیل اور امریکہ اس موقف کو مسترد کر چکے ہیں۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے واضح طور پر کہا ہے کہ لبنان کسی بھی جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارت خارجہ نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب ایران اپنے حملوں کی مکمل ذمہ داری قبول کرے، نقصانات کی تلافی کرے اور سمندری سلامتی کو مکمل طور پر بحال کرے۔

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان صدر ٹرمپ نے تیل کے وسائل پر قبضہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ ایران نے امریکہ کی نئی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایران نے حالیہ فضائی جھڑپ کے دوران امریکہ کے دو جنگی طیارے ایف 15 ای اور اے 10 کو مار گرایا تھا۔ اس کارروائی میں ایف 15 ای طیارے کے دو عملے کے ارکان میں سے ایک کو پہلے ہی امریکی اسپیشل فورسز نے ریسکیو کر لیا تھا، جبکہ دوسرا اہلکار لاپتہ ہو گیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ لاپتہ امریکی اہلکار کو محفوظ طریقے سے نکال لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج نے تاریخ کے سب سے جرات مندانہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز میں سے ایک انجام دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے انہیں بچا لیا۔ گزشتہ چند گھنٹوں میں امریکی فوج نے انتہائی جرات مندانہ کارروائی کی۔