Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel Crisis

جموں وکشمیرکی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ایران پر اسرائیل اب حملے نہیں کرے گا۔ اس سے لگتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل چاہتے تھے کہ سیزفائرہو۔

ایکسیوس کے مطابق، ڈونالڈ ٹرمپ کے ایلچی نے ایران کو سمجھوتہ کے لیے بلایا توایران نے اپنی شرائط پیش کیں۔ ایران کا کہنا تھا کہ مذاکرات صرف اسی صورت میں ہوسکتی ہیں، جب اسرائیل حملہ روکے۔ امریکہ نے قطرکی سفارش پرجنگ بندی شروع کی تھی۔

صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کے اعلان کو اپنی سفارتی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ یہ جنگ، جسے انہوں نے "12 روزہ جنگ" کا نام دیا، مشرق وسطیٰ کو تباہ کر سکتی تھی۔ انہوں نے قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کی ثالثی کی بھی تعریف کی۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ایران کے "ظالم" اس کی "پوری قیمت" ادا کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی دھمکی دی کہ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے ایران کی جوہری اور فوجی تنصیبات پر غیر معمولی فضائی حملوں کے چند دن بعد، ایران کے جوڈیشری چیف غلام حسین محسنی ایجی نے اعلان کیا کہ اسرائیل کے ساتھ تعاون کے شبہ میں گرفتار افراد کے مقدمات کی سماعت کو تیز کیا جائے گا۔

جماعت اسلامی ہند کے مرکزی مجلس شوری کے اجلاس میں ایران پریکطرفہ اورجارحانہ امریکی حملے کی سخت مذمت کی گئی اور ایران کے عوام کے ساتھ یگانگت کا اظہارکیا گیا۔ جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا یہ بحران دنیا بھر کے امن پسند اورانصاف پسند عوام کے لیے سخت تشویش اوراضطراب کا باعث ہے۔

ایرانی میڈیا نے ایک اسرائیلی ہرمیس 900 ڈرون کی فوٹیج شائع کی ہے ،جسے آج ہی ایرانی  فوجیوں نے مار گرایا تھا۔ لرستان نیوز آؤٹ لیٹ نے ٹیلی گرام پوسٹ میں کہا کہ ڈرون کو اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) فورسز کی جانب سے صوبہ لرستان کے خرم آباد میں ایک آپریشن کے دوران مار گرایا گیا۔

یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان یہ ایسوسی ایشن معاہدہ تجارت، سیاسی مکالمے، اور دیگر شعبوں میں تعاون کے لیے ایک اہم فریم ورک فراہم کرتا ہے، لیکن اس کے آرٹیکل 2 میں انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کے احترام کو معاہدے کا "لازمی جزو" قرار دیا گیا ہے۔

اس حملے میں خاص طور پر B-2 اسپرٹ اسٹیلتھ بمبار اور F-22 ریپٹر جیٹس کا استعمال کیا گیا، جو ریڈار سے اوجھل رہنے کی اپنی صلاحیت کے لیے مشہور ہیں۔ B-2 بمبار طیاروں کا استعمال خاص طور پر ایران کے زیرِ زمین ایٹمی ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے کیا گیا۔

ایران میں اسرائیلی حملوں میں اب تک 950 افراد ہلاک جب کہ 3450 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے پی نے انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔