اسپین نے یورپی یونین (ای یو) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے ایسوسی ایشن معاہدے کو فوری طور پر معطل کرے، اس اقدام کی وجہ غزہ میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کو قرار دیا گیا ہے۔ اسپین کے وزیر خارجہ جوس مینوئل البیریس نےآج صحافیوں کو بتایا کہ وہ ای یو کونسل سے اس معاہدے کی معطلی کی درخواست کریں گے، جو یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو منظم کرتا ہے۔ البیریس نے مزید کہا کہ وہ اسرائیل پر ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی اور دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کے خلاف پابندیوں کی بھی تجویز پیش کریں گے۔ یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین کی سفارتی سروس نے حال ہی میں ایک رپورٹ میں نشاندہی کی کہ اسرائیل نے غزہ میں اپنے اقدامات سے معاہدے کے آرٹیکل 2 کے تحت انسانی حقوق کے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہو سکتی ہے۔
یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان یہ ایسوسی ایشن معاہدہ تجارت، سیاسی مکالمے، اور دیگر شعبوں میں تعاون کے لیے ایک اہم فریم ورک فراہم کرتا ہے، لیکن اس کے آرٹیکل 2 میں انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کے احترام کو معاہدے کا “لازمی جزو” قرار دیا گیا ہے۔ اسپین کا یہ مطالبہ پہلے سے جاری اس جائزے کی روشنی میں ہے جو ای یو نے 17 ممالک کی درخواست پر شروع کیا تھا، جس کی قیادت نیدرلینڈز نے کی تھی۔ اس جائزے میں غزہ میں اسرائیل کے فوجی اقدامات کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے جوڑا گیا ہے۔ تاہم، معاہدے کی مکمل معطلی کے لیے تمام 27 رکن ممالک کی متفقہ حمایت درکار ہے، جو فی الحال ممکن نظر نہیں آتی، جبکہ تجارت سے متعلقہ حصوں کی معطلی کے لیے اہل اکثریت (55فیصد ممالک جو بلاک کی 65فیصد آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں) کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسرائیل نے یورپی یونین کے اس جائزے کو “غیر منصفانہ” اور “جانبدارانہ” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے ایک خط میں کہا کہ یہ رپورٹ “اخلاقی اور طریقہ کار کے لحاظ سے ناکام” ہے اور اسے کسی بھی مستقبل کے اقدامات یا بات چیت کی بنیاد نہیں بنایا جانا چاہیے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ وہ ایران اور اس کے پراکسیز، جیسے کہ حماس، سے وجودی خطرے کا سامنا کر رہا ہے، اور اس نے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کا حوالہ دیا جن میں 1,200 افراد ہلاک اور متعدد یرغمال بنائے گئے تھے۔ دوسری جانب، انسانی حقوق کی تنظیمیں، جیسے کہ ہیومن رائٹس واچ، اور 110 سے زائد دیگر گروپس نے ای یو سے معاہدے کی معطلی کا مطالبہ کیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ اسرائیل کی غزہ میں کارروائیاں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔ یہ صورتحال یورپی یونین کے اندر تقسیم کو اجاگر کرتی ہے، جہاں کچھ ممالک اسرائیل کے ساتھ تجارت کو برقرار رکھنے کے خواہشمند ہیں، جبکہ دیگر سخت اقدامات کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
