Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel Crisis

اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد سیاسی و مذہبی حلقوں میں بحث تیز ہوگئی ہے، مختلف لیڈروں کے بیانات سامنے آگئے ہیں۔ جانئے بھارت میں کس نے کیا کہا؟

اسرائیلی حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور جنگ سے بچنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں، اور توقع تھی کہ مذاکرات اگلے ہفتے بھی جاری رہیں گے۔

ایران نے جوابی کارروائیوں میں اسرائیل پر تقریباً 20 میزائل داغے، جن میں سے کچھ نے اسرائیل میں تباہی مچائی اور وہاں بھی ہلاکتوں کی بڑی تعداد ریکارڈ کی گئی ،لیکن اسرائیل اپنے نقصانات کو چھپانے میں مشہور ہے،اس لئے حتمی تعداد نہیں بتائی گئی ہے۔

پیزشکیان نے کہا کہ ہم ان کے بارے میں بات کرنے کو تیار ہیں۔ ہم کوئی پارٹی نہیں جو بھاگ جائیں گے۔ ہم اس طرح کی نگرانی کے لیے تیار ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے امریکہ نے ہمارے ایٹمی مراکز اور تنصیبات پر حملہ کیا۔ ان جوہری مراکز کے کئی آلات کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔

وزیر خارجہ نے مزید لکھا کہ اگر صدر ٹرمپ کسی معاہدے کے لیے واقعی سنجیدہ ہیں تو انہیں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے بارے میں توہین آمیز اور ناقابل قبول زبان کو ترک کرنا چاہیے

ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہوکو یروشلم کی عدالت سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے ان کی بدعنوانی سے متعلق سماعت ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کردی۔ نیتن یاہو کے وکلاء نے دلیل دی کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث انہیں کچھ وقت درکارہے، لیکن عدالت نے یہ دلیل قبول نہیں کی۔ اس فیصلے پرکئی وزراء نے ناراضگی ظاہرکی ہے۔

ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای نے امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کے ایرانی نیوکلیئرسہولیات پر حملے کے دعووں کوغلط بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کواس جنگ سے کوئی فائدہ نہیں ہوا اورایران جنگی پروگرام کو جاری رکھے گا۔

ایران کے تین بڑے نیوکلیئرٹھکانوں پرامریکی بمباری کے بعد، ڈونالڈ ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہوسے کہا کہ یہ جنگ بند کرنے اورسفارتی مذاکرات میں واپس آنے کا وقت ہے۔

واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان لوگوں کو پرسکون ہونا پڑے گا، یہ مضحکہ خیز ہے۔ میں نے جو دیکھا وہ مجھے بالکل پسند نہیں آیا، نہ اسرائیل کا حملہ اور نہ ہی ایران کی جوابی کارروائی۔

آپریشن سندھو جنگ زدہ علاقوں میں پھنسے بھارتی شہریوں کی واپسی کے لیے ایک اہم مشن ہے۔ وزارتِ خارجہ، سفارت خانوں، اور زمینی ٹیموں کے درمیان کامیاب ہم آہنگی حکومتِ ہند کے اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود اپنے شہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتی ہے