Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel Crisis

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی کشیدگی کے درمیان بھارت کے وزیر اعظم مودی نے عالمی برادری سے تحمل، مذاکرات اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ہمیشہ امن اور استحکام کا حامی رہا ہے اور موجودہ بحران کا حل صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک اہم فوجی واقعہ پیش آیا ہے جہاں امریکی فضائیہ کا جدید جنگی طیارہ ایف-15ای اسٹرائک ایگل کویت کی فضائی حدود میں پرواز کے دوران حادثے کا شکار ہو کر گر گیا۔ طیارے کے پائلٹ نے بروقت ایجیکٹ کرتے ہوئے پیراشوٹ کے ذریعے اپنی جان بچالی۔

مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی حسینی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی کیفیت کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کی دیر رات کابینہ کمیٹی برائے سلامتی (سی سی ایس) کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔

یہ تمام طلبہ پونے کے معروف تعلیمی ادارے اندرا اسکول آف بزنس اسٹڈیز سے تعلق رکھتے ہیں اور سالانہ تعلیمی مطالعاتی دورے کے تحت پانچ روزہ پروگرام میں شرکت کے لیے دبئی گئے تھے۔ ادارے کے حکام کے مطابق 40 طلبہ کو ہفتہ کے روز بھارت واپس آنا تھا جبکہ باقی 44 طلبہ و طالبات کی واپسی اتوار کو طے تھی، تاہم خطے میں اچانک پیدا ہونے والی جنگی صورتحال نے تمام پروازیں متاثر کر دیں۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال پر کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگی کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل فوجی حملوں نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عام شہریوں کی زندگی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خامنہ ای کی موت کی تصدیق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے بیان کے بعد عالمی سطح پر زیر بحث آئی، جس کے بعد ایران میں 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا۔ تاہم اس واقعے نے بھارت میں ایک اہم سوال کو جنم دیا کہ آیا خامنہ ای بھارت کے دوست تھے، دشمن یا صرف ایک شراکت دار۔

ایران میں موجودہ غیر یقینی صورتحال کے دوران عالمی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے زیر بحث ہے کہ اگر ملک میں اقتدار کی تبدیلی یا ممکنہ تختہ الٹ ہوتا ہے تو کیا رضا پہلوی دوبارہ اقتدار میں آ سکتے ہیں۔ حالیہ بیانات، علاقائی کشیدگی اور عالمی طاقتوں کی سرگرمیوں نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔

اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کو ایران بھر میں کیے گئے ہدفی فضائی حملوں میں ایران کے وزیر دفاع سمیت اسلامی انقلابی گارڈ کور کے اعلیٰ ترین فوجی حکام ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی دفاعی افواج کے مطابق ان حملوں میں مجموعی طور پر 7 سینئر ایرانی عسکری کمانڈرز مارے گئے۔

ایران کی سیاست میں ایک اہم اور غیر معمولی موڑ اس وقت سامنے آیا جب سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ ہلاکت کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف ایران بلکہ عالمی سیاسی حلقوں میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ پہلی مرتبہ اقتدار براہ راست خاندانی دائرے میں منتقل ہونے کا تاثر پیدا ہوا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے درمیان ایران نے اپنی عسکری قیادت میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے احمد واحدی کو اسلامی انقلابی گارڈ کور کا نیا کمانڈر اِن چیف مقرر کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ مبینہ طور پر سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد کیا گیا، جس کے نتیجے میں خطے کی سیاسی و فوجی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔